پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد،معاملہ میں اہم پیشرفت

پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد،معاملہ میں اہم پیشرفت

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ میں سینیٹ انتخابات میں پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کےخلاف درخواست پر سماعت، الیکشن ٹربیونل نے پرویز رشید کی درخواست پر الیکشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے تمام ریکارڈ کل طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس شاہد وحید نے بطور الیکشن ٹربیونل لیگی امیدوار پرویز رشید کی درخواست پر سماعت کی ،لیگی رہنما پرویز رشید کی طرف اعظم نذیر تارڑ, احسن بھون سمیت دیگر وکلاء پیش ہوئے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ اور الیکشن کمیشن کے وکلاء بھی پیش ہوئے۔اعظم نذیر تارڈ ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے سینیٹ انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی نادہندہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیئے۔

ریٹرننگ افسر کے فیصلے میں 96 لاکھ روپے کا نادہندہ ہونے کو جواز بنایا گیا ہے، پنجاب ہائوس کی جانب سے 2019ء میں واجب الادا رقم کا کوئی نوٹس بھی موصول نہیں ہوا تھا، واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لئے ریٹرننگ افسر کو بھی درخواست دی مگر مسترد کر دی گئی، جسٹس شاہد وحید نے اعظم نذیر تارڈ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے قانون کی کس دفعہ کے تحت درخواست دائر کی؟ اعظم نذیر تارڈ ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 112 کے تحت ریٹرننگ افسر کو رقم جمع کرانے کی درخواست دی۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کیا ریٹرننگ افسر کسی ادارے کو رقم جمع کرنے کیلئے ہدایات دے سکتا ہے؟ ریٹرننگ افسر عدالت نہیں ہے، حکومتی واجبات جمع کرانے کیلئے آخری تاریخ کیا تھی؟ اعظم نذیر تارڈ ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ واجبات تو الیکشن تاریخ سے قبل جمع کروائے جا سکتے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں، سکروٹنی کے وقت نیک نیتی ظاہر کرنے کیلئے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور ریٹرننگ افسر کو واجبات ادا کرنے کیلئے درخواستیں دیں، برسراقتدار حکومت کے دبائو پر ریٹرننگ افسر نے واجبات ادائیگی کیلئے رقم جمع کروانے کی اجازت نہیں دی۔

جسٹس شاہد وحید نے اعظم نذیر تارڈ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بینک میں رقم جمع کرانی تھی، آپ تو  بینک گئے ہی نہیں، اعظم نذیر تارڈ نے کہا پرویز رشید کو بینک اکائونٹ نمبر ہی نہیں دیا گیا، ریٹرننگ افسر کو کراس چیک کے ذریعے رقم ادا کرنے کی بھی یقین دہانی کروائی مگر موقف تسلیم نہ کیا گیا، جسٹس شاہد وحید نے کہاآپ کی اپیل کے صفحہ نمبر 40 پر اکائونٹ نمبر لکھا ہوا ہے، آپ نے کہیں بھی انکار نہیں کیا کہ پنجاب ہائوس کا کمرہ آپ کے زیر استعمال نہیں رہا، جب پرویز رشید نے وہ کمرہ چھوڑا تو تب انہیں اپنے واجبات ادا کر دینے چاہئیں تھے۔

اعظم نذیر تارڈ ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ پنجاب ہائوس پرویز رشید کو چیئرمین سینیٹ کے ذریعے نوٹس جاری کر کے واجبات وصول کر سکتا تھا، جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ اپنی اپیل میں یہ دکھا دیں کہ جنوری 2011 سے 2018ءتک یہ کمرہ پرویز رشید کے زیر استعمال نہیں رہا، اعظمبنذیر تارڈ نے جواب دیا واجبات کی عدم ادائیگی پر پرویز رشید کو انتخابی میدان سے باہر نہیں نکالا جا سکتا، ،پنجاب ہائوس کی نادہندگی سے متعلق ابھی تو کسی عدالت سے فیصلہ بھی نہیں ہوا، اگر پرویز رشید عدالت کے ذریعے پنجاب ہائوس کیخلاف کیس جیت جاتے ہیں تو انکو انتخابی عمل سے باہر نکالنے کا مداوا نہیں ہو سکے گا۔

اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ پنجاب ہائوس کی واجب الادا رقم جمع کرانےاور ریٹرننگ افسر کو درخواستگزار کے کاغذات نامزدگی منظور کر کے امیدوارں کی حتمی فہرست میں نام شامل کرنے کا حکم دیا جائے، جسٹس شاہد وحید نے اعظم نذیر تارڈ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے دو تین سال کمرہ استعمال کیا اور کرایہ کیوں نہیں دیا؟آپ کا یہ کہنا کہ واجبات کا پرویز رشید کے علم میں نہیں تھا، احسن بھون ایڈووکیٹ نے کہا پرویز رشید نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئےواضح کیا کہ پنجاب ہائوس کے کوئی واجبات ادا کرنے والے باقی نہیں ہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ تو آپ کہتے ہیں کہ میں پھر پنجاب ہائوس کا ریکارڈ منگوا لوں؟ احسن بھون ایڈووکیٹ نے کہاپرویز رشید نے پنجاب ہائوس کے 4 لاکھ روپے جمع کرائے تھے۔