13 سالہ لڑکی کیساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی

13 سالہ لڑکی کیساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی

( فہد علی ) لاہور کا شمار پاکستان کے ان شہروں میں ہوتا ہے جو ترقی کے حساب سے دیگر شہروں کے مقابلے کافی آگے ہے مگر بدقسمتی سے آئے روز چوری، ڈکیتی، قتل اور زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام میں پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

معاشرے میں جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافے سے نہ صرف معصوم لڑکیاں عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہیں بلکہ ان کے والدین اور رشتہ دار بھی سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ نوجوان لڑکیوں کو سہانے خواب دیکھا کر ان کے ضمیر کا سودا کیا جاتا ہے اور  ایسے معصوم لڑکیاں وحشی درندوں کے ہاتھوں اپنی عزت گواہ بیٹھتی ہیں۔

ملت پارک کی رہائشی تیرہ سالہ لڑکی کے اہلخانہ نے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعہ اور ملزمان کی عدم گرفتاری پر یتیم خانہ چوک میں احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ لڑکی بروز منگل 18 فروری کو پانچ افراد کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوئی، تھانہ ملت پارک میں ایف آئی آر درج کرائی مگر پولیس نے مقدمے میں صرف ایک ملزم کو نامزد کیا ہے۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کے ہمراہ ملت پارک کے علاقے میں ملزمان کے گھر پر چھاپہ مارا مگر کوئی بھی ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔

احتجاج کی وجہ سے یتیم خانہ چوک اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک جام رہی۔ پولیس نے لواحقین کے ساتھ مذاکرات کیے، ملزمان کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا۔