ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے بری ہونے والے افراد کے کریکٹر سرٹیفکیٹس میں سابقہ مقدمات کے اندراج کے خلاف دائر درخواستوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے واضح میکنزم بنانے کی ہدایت کی ہے۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شہری وقاص احمد سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان احمد، ڈی آئی جی لیگل اویس احمد ملک اور پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز میں عدالت نے ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟ جس پر انہوں نے خود کو شہزادہ سلطان احمد، ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن کے طور پر متعارف کرایا۔ اس پر جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ آپ کی اتنی سروس ہو چکی ہے اور سی آر پی سی کی دفعہ 154 کے تحت اس صورتحال کا کیا حل ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ملزم کو بعد میں بے گناہ قرار دے دیا جاتا ہے مگر اس کے باوجود اس کا نام ریکارڈ میں موجود رہتا ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری نے کہا کہ اگر کوئی جھوٹا مقدمہ درج کرا دے تو متعلقہ شخص کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایسا نظام نہیں ہونا چاہیے جہاں ایک الزام کی بنیاد پر شہری عدالتوں کے چکر لگاتا رہے۔
ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے قانونی اصلاحات اور ایک مؤثر میکنزم کی ضرورت ہے، جس پر کام جاری ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کو سہولت دینا اور غیر ضروری مشکلات سے بچانا ضروری ہے، نہ کہ انہیں بلاجواز پریشان کیا جائے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں شفاف اور واضح طریقہ کار اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اسی نوعیت کے کیسز کے لئے فل بنچ بن۔ چکا ہے جس کی ایک سماعت ہوچکی ہے اور ایڈوکیٹ جنرل آفس نے اس نوعیت کے تمام کیسز کی فہرست فل بنچ کو دے دی ہے، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست گزار وکیل سے کہا کہ اگر آئندہ سماعت تک یہ کیسز فل بنچ میں چلے جائیں تو آپ وہاں چلے جائیں ،فل بنچ بن گیا ہے، یہ دس کیس بھی ادھر ہی جانئیں، بعد ازاں عدالت نے کیس کو ری شیڈول کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔