ویب ڈیسک:حمزہ شہباز سے حلف لینے کے معاملے پر گورنرپنجاب اپنے موقف پر ڈٹ گئے۔عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ آئین کسی کو اختیار نہیں دیتا کہ کوئی مجھ پر غیرآ ئینی کام کیلئےدباؤ ڈالے۔
تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ آج گورنر پنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنر نہیں ہے، اپنے حلف کی پاسداری اور ذمہ داری سے بخوبی واقف ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کسی کو اختیار نہیں دیتا کوئی مجھ پر غیر آئینی کام کیلئےدباؤ ڈالے۔
آج گورنر پنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنر نہیں
— Omar Sarfraz Cheema (@OmarCheemaPTI) April 22, 2022
اپنے حلف کی پاسداری اور ذمہ داری سے بخوبی واقف ہوں
آئین کی کوئی شک یا قانون کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ممجھے زبردستی غیر آئینی کام کرنے کے لئے دباؤ ڈالے
دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حمزہ شہباز کی درخواست پر فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہےاور کہا ہے کیس میں گورنر پنجاب کو نوٹس ہی نہیں کیا گیااور نہ ہی سنا گیا ہے جبکہ صدر پاکستان کیس میں فریق ہی نہیں تھے انہیں کیسے ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں؟
ایڈووکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ آئین کے تحت گورنر اور صدر کو ہدایات نہیں جاری کی جا سکتی کیوں کہ آرٹیکل 248کے تحت صدر اور گورنر کو استثنیٰ حاصل ہے اس لیے ان کو نہ ہی عدالت کوئی احکامات جاری کر سکتی اور نہ ہی ہدایات جاری کر سکتی ہے ۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے گورنر پنجاب کی جانب سے حلف نہ لینے کےخلاف درخواست پر سماعت کی جس میں انہوں نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ گورنر پنجاب نئے وزیر اعلیٰ سے حلف نہیں لینا چاہتے اس لیے صدر پاکستان حلف لینے کے لئے کسی دوسرے شخص کو نامزد کریں اور 24گھنٹے میں یہ کام کیا جائے۔
عدالت نے فیصلے کی کاپی صدر پاکستان کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے موقف اختیار کیا تھا کہ آئین میں گورنر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ حلف لینے سے انکار کریں ۔
دوسری جانب حمزہ شہباز شہباز نے ٹویٹ کرتے کہا کہ 21 دن سے 11 کروڑ کا صوبہ بغیر حکومت کے تھا عدالتی احکامات کے تحت پہلے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوا اور اب حلف لینے کے حوالے سے آئین کی فتح ہوئی۔
تاریخ یاد رکھے گی کہ کس طرح اس دور میں آئین و قانون کا مذاق بنایا گیا۔انشاللہ اب یہ صوبہ دوبارہ سے ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا۔