ویب ڈیسک:خفیہ اداروں نے مراسلے کی تحقیقات کیں،دوران تحقیقات غیرملکی سازش کے ثبوت نہیں ملے۔قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کااعلامیہ جاری کردیا گیا۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا 38 واں اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف ، رانا ثنا اللہ، مریم اورنگ زیب، احسن اقبال، حنا ربانی کھر، چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجواہ، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی، چیف آف ائیر اسٹاف ائیر مارشل ظہیر امد بابر، سابق پاکستانی سفیر برائے امریکا اسد مجید سمیت اعلی سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر اور داخلہ سکیورٹی صورتحال پر بھی بریفنگ لی گئی، دھمکی آمیز خط پر بھی مشاورت ہوئی۔اعلی عسکری اور سول حکام نے شرکاء کو متنازعہ خط پر بریفنگ دی۔
قومی سلامتی کمیٹی نے گزشتہ اعلامیے کی توثیق کردی ہے۔قومی سلامتی کمیٹی کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ٹیلے گرام موصول ہوا خفیہ ادارں نے مراسلے کی تحقیقات کیں۔ دوران تحقیقات کسی غیرملکی سازش کے ثبوت نہیں ملے ۔ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید خان نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی ۔ اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے فیصلوں کا اعادہ کیا گیا۔
سیکیورٹی ایجنسیز نے قومی سلامتی کمیٹی کو سازش کے ثبوت نہ ملنے سے آگاہ کر دیا،سفیر کی بریفنگ، سیکیورٹی ایجنسیز کی معلومات کے مطابق کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی شر کت,دفاع، خارجہ، داخلہ، اطلاعات کے وزراء نے شرکت کی https://t.co/R9Sf3evEqE pic.twitter.com/8TAIKqUFK1
— Fahad Malik (@Fahad4014) April 22, 2022
واضح رہے کہ اس سے قبل 31 مارچ کو سابق وزیراعظم عمران خان کو بھیجے گئے ’ دھمکی آمیز‘ خط کے معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں شرکا کو مراسلے کے معاملے پر بریفنگ دی گئی۔
اس اجلاس کے بعد عمران خان اپنی تقریروں میں یہ دعویٰ کرتے رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے مبینہ خط کے سازش ہونے کی توثیق کی ہے۔
بعدازاں فوج کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس مراسلے میں سازش کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔