لاہور سمیت ملک بھر کے وکلاء کیلئے بڑی خبر

لاہور سمیت ملک بھر کے وکلاء کیلئے بڑی خبر

( ملک اشرف ) جوڈیشل پالیسی میں ترامیم واپس لینے کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے، ماڈل کورٹس میں قتل و منشیات کے فیصلہ کی مدت کا دورانیہ چار سے بڑھا کر تین ماہ کردیا گیا۔ ذرائع کےمطابق اندراج مقدمہ کیلئے جسٹس آف پیس کے پاس درخواست دینے کا پرانا طریقہ بھی بحال کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے پاکستان بار و پنجاب بار کونسل سمیت ملک بھر کی وکلاء تنظیموں کے جوڈیشل پالیسی میں ترامیم واپس لینے کے حوالے سے مطالبات تسلیم کرلئے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے پاکستان و پنجاب بار سمیت دیگر وکلاء تنظیموں کے وکلاء رہنماؤں نے ملاقات کی اور انہیں نیشنل جوڈیشل پالیسی میں ترامیم پر نظر ثانی کی استدعا کی۔

 وکلاء نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اندراج مقدمہ کیلئے جسٹس آف پیس کے پاس بائیس اے، بائیس بی کی درخواستوں کا سابقہ طریقہ کار بحال کرنے کی بھی درخواست کی، چیف جسٹس آف پاکستان نے وکلاء کے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں۔

وائس چیئرمن پنجاب بار کونسل چوہدری شاہنواز اسماعیل گوجر نے سٹی فورٹی ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ماڈل کورٹس میں قتل و منشیات کا فیصلہ چار دن کی بجائے تقریباً تین ماہ میں ہوگا۔ اندراج مقدمہ کیلئے جسٹس آف پیس کے پاس درخواست دینے کا پرانا طریقہ بھی بحال ہوگیا ہے۔

وائس چیئرمین پنجاب بار کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے وکلاء رہنماؤں کی ملاقات میں ان کے درینہ مطالبات تسلیم کئے تاہم ان کی منظوری چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے 29 اپریل کے اجلاس میں دی جائے گی۔