سٹی42: بالی ووڈ کے مشہور ترین مزاحیہ اور ورسٹائل اداکار انتقال کر گئے. اس عظیم اداکار کی وفات پر ممبئی کی بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں گہرے صدمے کی لہر دوڑ گئی۔
پڑوسی ملک اور پاکستان مین یکساں مقبول ، فلم شعلے میں جیلر کا یادگار کردار اور درجنوں دوسری فلموں مین تا دیر یاد رہنے والے کردار کرنے والے سینئیر اداکار اسرانی 85 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے 6 دہائیوں پر محیط کیریئر میں 350 سے زائد فلموں میں مزاحیہ، سنجیدہ اور منفی کرداروں سے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی
بالی ووڈ کے معروف اور ہر دلعزیز اداکار اسرانی، جو سنجیدہ، مزاحیہ اور منفی کرداروں میں اداکاری کرنے میں یکساں مہارت رکھتے تھے، گزشتہ روز دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اپنے 6 دہائیوں پر محیط اداکاری کے شاندار کیریئر میں اسرانی نے 350 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور اپنے مخصوص انداز، مکالمہ گوئی اور بے مثال ٹائمنگ کے لئے مشہور مزاح بھری اداکاری سے فلم بینوں کے دل مٹھی میں رکھے۔
گووردھن اسرانی یکم جنوری 1940 کو جے پور کے ایک متوسط سندھی ہندو خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ گووردھن اسرانی کے والد قالین کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ چار بہن بھائیوں میں اسرانی کو تعلیم کے دوران ریاضی سے زیادہ فنون لطیفہ سے دلچسپی تھی۔ سینٹ زیویرز اسکول اور راجستھان کالج، جے پور سے تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی وہ آل انڈیا ریڈیو جے پور میںصداکار آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔
گووردھن اسرانی نے 1960 سے 1962 تک اداکاری کی رسمی تربیت حاصل کی اور 1962 میں فلم نگری ممبئی پہنچ گئے۔ وہاں کشور ساہو اور رشی کیش مکھرجی نے انھیں مزید تربیت لینے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ 1964 میں اسرانی نے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (پونے) میں داخلہ لیا اور 1966 میں ایکٹنگ کا کورس مکمل کیا۔
انہیں پہلی بار 1967 کی فلم ’ہری کانچ کی چوڑیاں‘ میں اداکار بسوجیت کے دوست کے کردار میں موقع ملا۔ اسی سال انھوں نے ایک گجراتی فلم میں ہیرو کے کردار سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ 1967 سے 1969 کے دوران انہوں نے چار گجراتی فلموں میں کام کیا، تاہم شہرت کا دروازہ ان پر 1969 میں رشی کیش مکھرجی کی فلم ’ستیہ کام‘ سے کھلا۔
1970 کی دہائی ان کے کیریئر کا سنہری دور ثابت ہوئی۔ وہ رشی کیش مکھرجی، آتما رام اور گلزار جیسے ہدایت کاروں کے پسندیدہ اداکار بن گئے۔ ’میرے اپنے‘، ’کوشش‘، ’باورچی‘، ’پریچے‘، ’ابھی مان‘، ’محبوبہ‘، ’دو لڑکے دونوں کڑکے‘ اور ’بندش‘ جیسی فلموں نے انھیں بالی ووڈ میں اہم ہر فن مولا اداکار کی ھیثیت سے مستحکم کیا۔ 1970 سے 1979 کے دوران وہ مزید 101 فلموں میں نظر آئے۔
ان کی مقبولیت کی انتہا 1975 کی فلم ’شعلے‘ سے ہوئی، جس میں انہوں نے انگریزوں کے زمانے کے جیلر کا کردار ادا کیا۔ ان کے مکالمے آج بھی فلمی تاریخ کے یادگار حصے ہیں۔ ان کی کامِک ٹائمنگ اور مخصوص مزاح کا عنصر لئے اداکاری نے انہیں فلم بینوں کی نظر میں منفرد مقام عطا کیا۔
ان کی دوستی سپر سٹار راجیش کھنہ سے فلم ’باورچی‘ کے دوران ہوئی۔ بعد میں راجیش کھنہ نے اپنی متعدد فلموں میں اسرانی کو اپنے ساتھی مزاحیہ کرداروں کے لیے خاص طور پر تجویز کیا۔ دونوں نے 1972 سے 1991 کے دوران 25 فلموں میں ساتھ مل کر کام کیا، جن میں ’نمک حرام‘، ’پریم نگر‘، ’چپکے چپکے‘ اور ’پتی پتنی اور وہ‘ خاص طور پر مقبول رہیں۔

1977 میں اسرانی نے بطور مصنف اور ہدایت کار فلم ’چلا مراری ہیرو بننے‘ بنائی، جسے ناقدین نے خوب سراہا۔ ان کے اداکاری کے ہنر کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مزاحیہ، سنجیدہ، منفی اور رومانوی تمام طرح کے کردار نبھائے۔
گووردھن اسرانی کی غیر روایتی اداکاری والی فلموں میں ’کوشش‘ (ظالم بھائی)، ’بِدائی‘ (دوہرا کردار)، ’چیتالی‘ (آوارہ نوجوان)، ’نکاح‘ (رومانوی قوال) اور ’پریم نگر‘ (دلال) شامل ہیں۔
اسرانی نے منجو بنسل سے شادی کی، جن سے ان کی ملاقات فلم ’آج کی تازہ خبر‘ اور ’نمک حرام‘ کی شوٹنگ کے دوران ہوئی۔ دونوں نے بعد میں کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ ’آج کی تازہ خبر‘ میں اسرانی کے کردار چمپک بومیا / امت دیسائی پر انہیں بہترین مزاحیہ اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اسرانی نے 1980 میں ’ہم نہیں سدھریں گے‘ کی ہدایت کاری بھی کی۔ اپنی طویل فلمی زندگی میں وہ ہر نسل کے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔

ان کے انتقال کے بعد ان کی دو فلمیں ’بھوت بنگلہ‘ اور ’حیوان‘ ریلیز کے لیے تیار ہیں۔ ان کی رحلت سے ہندوستانی فلم انڈسٹری نے ایک ایسے فنکار کو کھو دیا جو ہنسی، خلوص اور انسانیت کی علامت بن چکے تھے۔
اداکاروں اور دیگر کی تعزیتیں
بھارتی فلم انڈسٹری نے ایک بہت بڑا فنکار کھو دیا : اکشے کمار
اداکار اکشے کمار نےسینئر اداکار گوردھن اسرانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا,اپنے تعزیتی پیغام میں اکشے کمار نے لکھا کہ وہ اسرانی جی کے انتقال کی خبر سن کر انتہائی غمزدہ ہیں اور بھارتی فلم انڈسٹری نے ایک بہت بڑا فنکار کھو دیا ہے۔
ایکشن اور کامیڈی اسٹار اکشے کمار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گوردھن اسرانی کی موت پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ وہ اسرانی جی کے انتقال کی خبر سن کر شدید غمزدہ ہیں۔ اکشے کمار کے مطابق صرف ایک ہفتہ قبل وہ فلم حیوان کے سیٹ پر اسرانی سے ملے تھے، جہاں انہوں نے نہایت محبت سے گلے لگایا تھا۔
اکشے کمار نے کہا کہ انہیں ہیرا پھیری، بھاگم بھاگ، دے دنا دن، ویلکم اور اب بھوت بنگلہ اور حیوان جیسی فلموں میں اسرانی کے ساتھ کام کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ اکشے کا کہنا تھا کہ ’اسرانی ایک نیک دل اور بے مثال مزاحیہ حس رکھنے والے فنکار تھے‘۔
اسرانی کے منیجر بابو بھائی تھیبا کے مطابق اداکار کا انتقال ممبئی کے علاقے جوہو میں نیدھی اسپتال میں ہوا، جس کے بعد ان کی آخری رسومات سانتا کروز کے کریماٹوریم میں ادا کی گئیں جس میں قریبی رشتہ دار شریک ہوئے۔
بابو بھائی تھیبا کے مطابق ان کے گھر والوں میں بیوہ منجو اسرانی، بہن اور بھانجا شامل ہیں کیونکہ گوردھن اسرانی کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
یاد رہے کہ پانچ دہائیوں پر محیط شاندار کیریئر میں اسرانی نے بھارتی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے اور اپنی مزاحیہ و جذباتی اداکاری سے ناظرین کے دلوں میں خاص مقام بنایا۔ ان کے مزاحیہ کردار اور ڈائیلاگز آج بھی مداحوں اور ناظرین میں مشہور ہیں جو سنتے ہی مداح ہنسنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔