ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس شہرام سرور چوہدری نے اپنی غیر معمولی عدالتی کارکردگی سے مثال قائم کر دی۔ صرف دو روز کے اندر 267 مقدمات کے فیصلے سنا کر انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس شہرام سرور چوہدری نے سنگل اور ڈویژن بنچ دونوں میں سماعتیں کرتے ہوئے مختلف نوعیت کے مقدمات پر فیصلے سنائے، جن میں فوجداری اور آئینی کیسز نمایاں طور پر شامل تھے۔ ان فیصلوں میں اہم نوعیت کے مقدمات بھی شامل ہیں جن پر طویل عرصے سے کارروائی جاری تھی۔عدالتی ذرائع کے مطابق جسٹس شہرام سرور چوہدری نے مقدمات نمٹانے میں نہ صرف قانونی باریکیوں کا خیال رکھا بلکہ انصاف کی تیز تر فراہمی کو ترجیح دی، جس سے زیرِ التواء مقدمات کے بوجھ میں واضح کمی آنے کی توقع ہے۔عدالتی ماہرین نے جسٹس شہرام سرور چوہدری کی اس کارکردگی کو عدلیہ کے لیے مثالی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رفتار اور عزم عدالتی نظام کی بہتری اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے نہایت خوش آئند ہے۔
،،وکلاء برادری نے بھی جسٹس شہرام سرور چوہدری کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ “یہ نہ صرف عدالتی نظم و ضبط کی مضبوطی کی علامت ہے بلکہ انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے کی عملی کوشش بھی ہے۔”ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر دیگر ججز بھی اسی جذبے اور رفتار سے فیصلے کریں تو عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔اس طرح جسٹس شہرام سرور چوہدری کی یہ کارکردگی عدالتی تاریخ میں نئے عزم، رفتار اور انصاف کی تیزی سے فراہمی کی روشن مثال بن چکی ہے۔