گیارہ سال کے دوران گنے کی فی من قیمت میں صرف 75 روپے کا اضافہ

گیارہ سال کے دوران گنے کی فی من قیمت میں صرف 75 روپے کا اضافہ

علی رامے: حکومتیں بدلتی رہیں، کسان و کاشتکاروں کی حالت نہ  بدلی، کسانوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے والے صرف زبانی دعوے کرتے رہے، گیارہ سال میں گنے کی فی من قیمت میں صرف 75 روپے کا اضافہ کیا گیا۔

 

تفصیلات کے مطابق   گنے کی دس سالہ قیمت سے متعلق رپورٹ ایوان وزیر اعلی کو ارسال کی گئی جس میں انکشاف ہوا ہے کہ دس سال میں گنے کی فی من قیمت میں صرف 75 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے دوہزار دس میں گنے کی فی من قیمت 125 روپے مقرر کی گئی تھی۔

 

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں گنے کی فی من قیمت 200 روپے رکھی گئی ہے، دوہزار دس سے دوہزار گیارہ کے دوران گنے کی فی من قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ 25 روپے فی من کیا گیا۔

 

رپورٹ کے مطابق دوہزار پندرہ سے دوہزار اٹھارہ تک گنے کی فی من قیمت میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا، کسان کی زندگی بدلنے کے تبدیلی سرکار کے دعویداروں نے گنے کی فی من قیمت میں صرف 20 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

 یاد رہے کہ   پنجاب حکومت نے گنے کی خریداری کا ریٹ مقرر کر دیا، سال 20-21 میں گنے کی خریداری کا فی من ریٹ 200 روپے سرکاری سطح پر مقرر کر دیا، محکمہ خوارک نے گنے کی قمیت خرید کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

کوئی بھی شوگر مل اور گنا خریداری سنٹرز 200 فی من سے کم قیمت پر گنا نہیں خرید سکیں گے، گنے کے مقررہ ریٹ پر خریداری نہ کرنے یا کم قیمت دینے والوں کے خلاف شوگر فیکٹری آرڈیننس کے تحت کاروائی کی جائے گی، پنجاب شوگر فیکٹری کنٹرول آرڈیننس کے تحت حکومتی ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے پر کم سی کم تین سال تک قید جبکہ 50 لاکھ تک یومیہ جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔