سٹی42: خیبرپختونخوا میں خطرناک ڈرگ آئس اور غیر قانونی گاڑیوں کا کھربوں روپیہ مالیت کا کاروبار ہو رہا ہے اور خیبر پختونخوا کی حکومت صوبے میں منشیات اور غیر قانونی گاڑیوں کے کھربوں روپے کے دھندے کو مکمل نظر انداز کر کے اڈیالہ جیل والی سڑک پر روزانہ تماشا لگانے میں مصروف ہے۔
خیبر پختنوخوا کی وادیٔ تیرہ میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور منشیات کی سپلائی کا خفیہ نیٹ ورک ہے۔
چار سے ساڑھے چار لاکھ غیر قانونی گاڑیاں یہاں جمع کی گئی ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر منشات کا کاروبار ہو رہا ہے۔ یہ کام قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
غیر قانونی گاڑیوں کا استعمال دہشت گرد گروہوں کی فنڈنگ سے جڑا پایا گیا ہے۔ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث افراد بھی دہشتگردوں کے سرپرست ہیں۔
قبائلی پٹی میں اسمگلنگ کے مراکز، پرامن اور متاثرہ علاقوں میں واضح فرق ہے۔
قیمتی گاڑیوں سمگلنگ اور منشیات کی سمگلنگ کے کارٹیل پاکستان کی معیشت کو سکھربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی گزشتہ حکومت ان غیر قانونی دھندوں کو روکنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کرتی تھی اور اب سہیل آفریدی بھی وزیراعلیٰ بننے کے بعد سے اس غیر قانونی سمگلنگ اور خریدو فروخت کے کاروبار سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ سہیل آفریدی صوبے میں قانون کی عملداری قائم کرنے کی بجائے روزانہ پنجاب آ جاتے ہیں اور اڈیالہ جیل والی سڑک پر آ کر وہاں قانون کی عملداری کو چیلنج کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو برا بھلا کہتے ہیں، میڈیا کیمروں کے سامنے پنجاب کی وزیراعلیٰ کو دھمکیاں دے کر واپس چلے جاتے ہیں۔
تیراہ میں خطرناک ڈرگ آئس اور افغانستان سے سمگل کر کے لائی جا رہی قیمتی گاڑیوں کے دھندے کے بارے میں سوشل میڈیا ہوش ربا انکشافات ہوئے ہیں اور یہ سکینڈل سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا کی حکومت اس صورتحال پر خاموش ہے۔