ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے پیسوں کی کمائی سے منی لانڈرنگ میں ملوث دو خواتین ملزمان کی عبوری درخواست ضمانتیں خارج کردیں دونوں خواتین پر ڈیفنس میں دو ہزار اٹھارہ سے پچیس تک تقریباً چالیس کروڑ کی پراپرٹیز بنانے کا الزام ہے، اے این ایف نے دونوں خواتین ملزمان کو گرفتار کرلیا .
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،،اسٹنٹ ڈائریکٹر اے این ایف عبدالمقیب سمیت دیگر افسران پیش ہوئے،،خواتین ملزمان ماریا عمر اور رمشاء عاصم اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئیں ،اے این ایف کی جانب سے یاسر صدیق مغل ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے، وکیل اے این ایف نے دلائل دیتے ہوئے کہا خواتین ملزمان پر منشیات کی کمائی سے پراپرٹیز بنانے کا الزام ہے،،خواتین کے بنک اکاؤنٹس میں اس عرصے کے دوران پچھتر کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کا بھی الزام ہے، خواتین ملزمان سے دوران انکوائری پراپرٹیز کا ثبوت مانگا لیکن وہ کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکیں ،بنک ٹرانزیکشن اور آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں بتا سکیں ، وکیل صفائی نے جواب دیا کہ اے این ایف نے ان کی تین پراپرٹیز قبضے میں لیں ، جس کے لئے کسی عدالت سے منظوری نہیں لی گئی ،تفتیشی افسر خود ہی مدعی اور خود ہی تفتیشی آفیسر ہے، ،گریڈ 18 سے کم کا افسر اس مقدمے کی تفتیش نہیں کرسکتا ،پراپرٹی سے منی لانڈرنگ سے بنانے بارے کبھی سؤال نہیں کیا گیا ، وکیل اے این ایف نے کہا ان کو نوٹس جاری کئے گئے جس میں ساری پراپرٹیز کا حوالہ دیا گیا ہے، اے این ایف کے وکیل نے خواتین ملزمان کی ضمانتیں خارج کروانے کے لیے دلائل دئیے ، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے اے این ایف کے وکیل سے استفسار کیا کہ ان کے کتنے اثاثے ملے ہیں ، وہ بتائیں ، وکیل اے این ایف نے بتایا کہ ملزمہ ماریہ عمر کی چار اور رمشا عاصم کی چار پراپرٹیز ہیں ، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے استفسار کیا کہ ملزمہ ماریا کا خاوند کیا کرتا ہے، وکیل اے این ایف نے جواب دیا اس کا خاوند بھی کراچی میں منشیات کا کام کرتا ہے، جیل میں رہ چکا ہے،عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد خواتین ملزمان کی عبوری درخواست ضمانتیں خارج کردیں.