سٹی 42 : پولیس چور سے بھی دو ہاتھ آگے، دبئی سے دو سال بعد وطن واپس لوٹنے والا نوجوان گھر پہنچنے سے پہلے ہی لُٹ گیا۔
فیض آباد سے نوجوان کا ہینڈ بیگ ایک چور گاڑی کے ڈیش بورڈ سے اٹھاکر لے گیا۔ جس کے بعد متاثرہ نوجوان کی جانب سے فوری طور پر واقعہ کی اطلاع 15 پر پولیس کو دی گئی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 3 گھنٹے کے اندر تھانہ سبزی منڈی سے چور کو چھینے گئے بیگ سمیت گرفتار کرلیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ پولیس مبینہ طور پر بیگ میں موجود آٹھ لاکھ روپے مالیتی سونا اور غیر ملکی کرنسی ڈکار گئی اور متاثرہ نوجوان کو دیگر اشیاء دیتے ہوئے ٹکا سا جواب دیا کہ ملزم سے یہی اشیاء ہی برآمد ہوئی ہیں۔
دوسری طرف ملزم بار بار یہی بیان دیتا رہا کہ جو کچھ بیگ میں موجود تھا پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ متاثرہ نوجوان نے آئی جی اسلام آباد سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ 20 مئی 2025ء کی علی الصبح میں دو سال بعد پاکستان لوٹا اور اسلام ائیر پورٹ سے کزن کے ہمراہ گاڑی پر فیض آباد آیا ۔ جہاں سے ہمیں کشمیر جانا تھاکہ گاڑی کے ڈیش بورڈ سے ہینڈ بیگ ایک نامعلوم شخص اٹھاکر لے گیا۔ نوجوان نے بتایا کہ واقعہ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب پیش آیا۔ جس پر میں نے ریسکیو ون فائیو پولیس کو اطلاع دی۔ واقعہ کی اطلاع پر پولیس موقع پر آئی اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔ تقریباً تین گھنٹے بعد صبح کے ساڑھے آٹھ بجے مجھے تھانہ سبزی منڈی سے فون آیا کہ مٹھائی لے کر تھانے آئیں۔ ہم نے آپ کا ملزم گرفتار کرلیا ہے اور بیگ سامان سمیت برآمد کرلیا ہے۔ میں تھانہ سبزی منڈی گیا تو قمر عباس نامی پولیس اہلکار نے ملزم سے موبائل فونز، کچھ غیر ملکی کرنسی اور دیگر چھوٹی موٹی چیزوں کی برآمدگی ظاہر کی۔ جبکہ بیگ میں موجود آٹھ لاکھ مالیتی سونا اور ایک ہزار درہم غائب کر دیا گیا تھا۔ جس کے بارے میں پولیس نے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔
متاثرہ نوجوان کا کہنا تھاکہ جب میں نے پولیس حراست میں موجود ملزم سے پوچھا تو اس کا کہنا تھاکہ جو کچھ بیگ میں موجود تھا وہ سب بیگ سمیت پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ جبکہ پولیس بضد تھی کہ ملزم سے برآمد ہونے والی جو چیزیں پولیس دے رہی ہیں وہ میں چپ چاپ لے لوں اور معاملہ یہیں ختم کر دوں۔ رات گیارہ بجے تک تھانہ سبزی منڈی میں مجھے بٹھائے رکھا گیا۔ اس دوران ایس ایچ او سے بھی میری ملاقات کروائی گئی ۔انہوں نے بھی سونا اور غیر ملکی کرنسی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے دیگر اشیاء لینے پر زور دیا۔ جب میں نے مکمل اشیاء ملنے تک کچھ بھی لینے سے انکار کیا تو وہ تلخ کلامی پر اتر آئے اور مجھ سے کہاکہ آپ کے ساتھ واردات تھانہ آئی نائن کی حدود میں پیش آیا ہے۔ اب آپ تھانہ آئی نائن جائیں۔ وہاں ایف آئی آر درج کروائیں اور آئی نائن پولیس سے ہی اپنی چھینی گئی اشیاء کا مطالبہ کریں۔
متاثرہ نوجوان کا کہنا تھاکہ میں صبح سے رات گئے تک تھانے میں خوار ہوتا رہا۔ پولیس میرا سونا اور غیر ملکی کرنسی ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔ میرے گھر والے الگ سے پریشان ہوں۔ دو سال بعد پاکستان آیا اور اپنے پیاروں سے ملنے سے پہلے ہی مجھے لوٹ لیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد نوٹس لیں۔