شالا مار باغ کے قریب پولیس اہلکاروں کا شہری پر مبینہ تشدد

شالا مار باغ کے قریب پولیس اہلکاروں کا شہری پر مبینہ تشدد

(شاہین عتیق)شالا مار باغ کے قریب پولیس اہلکاروں کا شہری پرمبینہ تشدد، ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا نے تھانہ باغبانپورہ پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔

ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا کی عدالت میں شہری خواجہ فہیم نے بابرعلی ایڈووکیٹ کی وساطت سے پولیس اہلکاروں ذیشان، نعمان اور دیگر کیخلاف اندراج مقدمے کی درخواست دائر کی، عدالت میں درخواست کیساتھ موقع کی ویڈیو بھی منسلک کی گئی جس میں پولیس اہلکارموقع پرموجود ہیں اورشہریوں نے گھیراؤ کررکھا ہے۔

  عدالت میں بابرعلی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ خواجہ فہیم افطاری سے گھر آ رہا تھا کہ شالامار باغ کے قریب 2 پولیس اہلکاروں نے  روک لیا، اس سے مبینہ طور پر رقم کا مطالبہ کیا، انکار پر تلخ کلامی ہوئی جس پر اہلکاروں نے خواجہ فہیم پر تشدد کیا، شور پر لوگ اکھٹے ہوگئے بعد میں مزید چاراور اہلکارآ گئے، فوری لوگوں نے ون فائیو پر کال کر  پولیس کو بلایا جس پر پولیس اہلکارموقع سے بھاگ گئے۔

عدالت نے بابر علی ایڈووکیٹ کے دلائل  سننے کے بعد باغبانپورہ تھانے کے ایس ایچ او سے رپورٹ طلب کرلی۔

 لاہور میں پولیس گردی کا یہ واقعہ نیا نہیں ہے، اس سے قبل بھی اس قسم کے واقعات ریکارڈ پر ہیں ، گزشتہ برس شمالی چھاؤنی انویسٹی گیشن پولیس کے بہیمانہ تشدد سے نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا، گلبرگ کے علاقے میں رشوت لینے کی ویڈیو بنانے پر پولیس اہلکار نے شہری کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا، لاہور پولیس نے اپنے پیٹی بھائیوں کو بھی نہیں بخشا، نابینا افراد کے مظاہرے کی فوٹیج بنانے پر لاہور پولیس نے اپنے ہی پیٹی بھائیوں پر سرعام تشدد کیا تھا۔

دوسری جانب آئی جی پنجاب شکایت سیل میں پولیس کے خلاف شکایات کے انبار لگ گئے، رواں سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران 36 ہزار شکایات موصول ہوئیں، جو کہ پچھلے سال کی نسبت 15 فیصد زیادہ ہیں، شکایات میں پولیس کی جانب سے فرائض میں غفلت، اختیارات کا ناجائز استعمال، رشوت اور شہریوں کی درخواستوں کا بروقت ازالہ نہ کرنا شامل ہے۔