ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ماہ صیام کا آخری عشرہ: پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں کنٹرول سے باہر، شہری پریشان

ماہ صیام کا آخری عشرہ: پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں کنٹرول سے باہر، شہری پریشان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

افشاں رضوان: ماہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی گراں فروشی کی لہر نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف رمضان کی رحمتیں اور برکتیں نظر آ رہی ہیں وہیں دوسری طرف پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا ہے۔

کیلا سرکاری قیمت 260 روپے فی درجن ہونے کے باوجود بازار میں 300 روپے فی درجن میں فروخت ہو رہا ہے۔سیب (سفید اول) سرکاری قیمت 300 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن بازار میں یہ 350 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔امردو سرکاری قیمت 220 روپے فی کلو ہے، جبکہ بازار میں یہ 300 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔پپیتا سرکاری قیمت 240 روپے فی کلو کے مقابلے میں بازار میں 350 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔کھجور 460 روپے فی کلو کی بجائے 500 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے اور اسٹرابری سرکاری قیمت 100 روپے فی کلو ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ 160 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔
دوسری جانب  آلو (درجہ اول) سرکاری نرخ 50 روپے فی کلو ہونے کے باوجود، بازار میں یہ 90 روپے فی کلو میں مل رہا ہے۔پیاز (درجہ اول)سرکاری نرخ 55 روپے فی کلو ہیں، مگر مارکیٹ میں یہ 100 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ٹماٹر سرکاری قیمت 55 روپے فی کلو ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں یہ 110 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ادرک سرکاری نرخ 375 روپے فی کلو ہیں، مگر بازار میں یہ 440 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔لہسن سرکاری قیمت 600 روپے فی کلو ہے، لیکن بازار میں یہ 650 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔مٹر سرکاری قیمت 100 روپے فی کلو ہونے کے باوجود، مارکیٹ میں 150 روپے فی کلو میں مل رہا ہے۔سبز مرچ (اول) سرکاری قیمت 110 روپے فی کلو ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ 140 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے جبکہ لیموں (چائنہ) سرکاری قیمت 110 روپے فی کلو ہے، مگر بازار میں یہ 160 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ رمضان کے مقدس مہینے میں جب عوام روزے رکھ کر عبادات میں مصروف ہیں، ایسے میں مہنگائی کی وجہ سے ان کا زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ عوام حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کریں اور قیمتوں پر قابو پائیں تاکہ وہ رمضان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔