ویب ڈیسک : ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ شروع نہ ہو سکا، جبکہ ایرانی اور امریکی وفود نے پاکستانی وفد سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات پر ایرانی وفد نے شدید احتجاج کیا اور بطور احتجاج مذاکراتی ٹیبل چھوڑ کر چلا گئے، جس کے باعث مذاکرات کے اگلے مرحلے کا آغاز نہ ہو سکا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ ردعمل کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو امریکا آج اس صورتحال تک نہ پہنچتا۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران امریکی دھمکیوں پر انحصار نہیں کرتا، جبکہ ایرانی چیف مذاکرات کار نے بھی اپنے ٹوئٹ میں امریکی مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے امریکی حکام کو اپنے بیانات میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔باقر قالیباف نے مزید کہا کہ آئندہ جو بھی اقدامات کیے جائیں گے، وہ ایران کی جانب سے کیے جائیں گے۔