ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مودی کی ڈھٹائی، سو جوتوں کے بعد سو پیاز بھی کھانےپر بضد

 Indus Water Treaty, City42
کیپشن: امِت شا اپنی طرز کا انوکھا لال بھجکڑ ہے جو سمجھتا ہے کہ 133 ملین ایکڑ فٹ پانی تین دریاؤں سے چرا کر ایک نہر میں دالے گا اور اس نہر کو راجستھان لے جائے گا، راجستھان بھلے ہی سیلاب مین غرق ہو جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کرے گا تو پاکستان اسے کچھ نہیں کہے گا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: چھ مئی سے دس مئی تک سو جوتے کھا چکنے کے بعد نالائق چائے فروش بضد ہے کہ وہ سو جوتے بھی پورے ہی کھائی گا۔

پڑوسی ملک کے پرائم منسٹر کے سنگھاسن پر چپکنے کے لئے مسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی کے فتنے جگانے والے  نریندر مودی کے دستِ راست امیت شا نے کہا ہے کہ  بھارت پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گاجو پانی پاکستان جا رہا ہے۔ ایک نہر بنا کر راجستھان لے جائیں گے۔

Caption سو جوتے کھانا کافی نہیں، سو پیاز بھی کھاؤں گا اور دنیا کا ڈھیٹ ترین آدمی ہونے کا ریکارڈ بناؤں گا! 


پاکستان گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں ڈیڑھ سو مرتبہ بتا چکا ہے کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے اور پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے یا چرانے کی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔ جنگی اقدام کا پاکستان کیسے جواب دیتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

اس کے باوجود بارڈر پار ہندوتوا کے ہتھیار  کی مدد سے اقتدار پر قابض بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نفسِ ناطقہ وزیر داخلہ امیت شاہے بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گا اور پاکستان جانے والا پانی بھارت کے اندرونی استعمال کیلئے منتقل کر دیا جائے گا۔

امیت شا نے  جہالت کی نئی میراتھن جیتنے والا گولا منہ سے داغا کہ جو پانی پاکستان جا رہا ہے، ایک نہر بنا کر راجستھان لے جائیں گے، پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جس پر اس کا کوئی حق نہیں۔ انڈیا کے میڈیا جسے خود انڈیا میں گودی میڈیا کہا جانے لگا ہے، یہ پوچھنے کی زخمت کی ہی نہیں کہ سندھ، جہلم، چناب کا پانی کسی ایک نہر میں کیسے ڈالیں گے، تین دریاؤں کا پانی راجستھان لے جا کر وہاں سیلاب لائیں گے؟ یا اس پانی کو میلوں گہرے گڑھے کھود کر زمین کے اندر بھیج دیں گے؟

بلاول نے کیا بتایا تھا

پاکستان کے دانش ور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے سادہ اردو زبان میں بھارت کی کسی ناقابلِ علاج جنون میں مبتلا قیادت کو بتایا تھا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدہ کو ماننا پڑے گا،  بھارت سندھ طاس معاہدہ مانے گا یا پاکستان ایک اور جنگ لڑے گا،  پھر چھ کے چھ دریا پاکستان کے ہونگے۔ بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا تھا کہ سندھ دریا مین پانی نہین بہے گا تو پھر اس میں بھاجپا کے لیدروں کا خون بہے گا۔ اس سادہ بیان کو لے کر بھارت میں بھاجپا کی قیادت نے کئی روز تک آنسو بہائے تھے۔




 

خیال رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر فالس فلیگ ٹیررزم  میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن کے قریب زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد  نریندر ومدی نے بنا کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کردیا اور پاکستان سے انتقام لینے کے بعرے لگائے، پھر چھ مئی کی رات کو پاکستان کی کچھ مسجدوں پر حملے کئے اور اپنے چھ طیارے گنوا بیتھے، پھر نو مئی کی رات کو پاکستان کے کچھ ائیر بیسز پر حملے کئے اور ناقابل تصور نقصانات اٹھا بیٹھے جن میں بہت کچھ اثاثوں کی بربادی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کا کچھ رقبہ بھی شامل تھا۔ دس مئی کو جو جوتے پڑے ان کا انتْقام لنے کی مودی کو جرات نہین ہوئی۔ اب ان کے  زخموں میں کھجلی ہوتی ہے تو وہ خود اور ان کے ساتھی خود کو یہ تسلی دیتے ہین کہ ہم سندھ طاس معاہدہ کو نہین مانین گے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ عالمی معاہدہ ہے جسے بھارت یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے

1960 کا سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا تھا، معاہدے میں کوئی معمولی تبدیلی بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دونوں ملک رضا مند نہ ہوں۔
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) ایک تاریخی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے کیا گیا تھا تاکہ پانی کے مسائل پر کوئی جنگ یا تنازع نہ ہو۔ اس تقسیم مین چھ دریاؤں کے پانی سے متعلق تمام ممکنہ مسائل کو ہمیشہ کے لئے حل کرنے کے لئے تین تین دریا دونوں ملکوں نے بانٹ لئے تھے تاکہ کسی ایک دریا کا پانی بانٹنے میں انیس بیس کا جھگڑا ہی کبھی کھڑا نہ ہو۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں پاکستان کو تین دریا بھارت کو دے چکنے کے بعد ان دریاؤں کے علاقوں میں پانی پہنچنے کے لئے طویل  نہریں کھودنا پڑی تھیں جنہیں لنک کینال کہا جاتا ہے، ان نہروں سے اوپر کے دریاؤں کا پانی ان علاقوں تک پہنچایا گیا جو ستلج، بیاس اور راوی سے سیراب ہوتے تھے۔ سندھ طاس معاہدہ میں پاکستان کے ایثار کی قیمت ڈیموگریفی اور ایکو سسٹمز  میں ڈراسٹِک تبدیلیوں  کی صورت مین برداشت کرنا پری، پاکستان کو  تین دریاؤں کے پانی سے محروم ہو کر نئی صورتحال سے ایدجسٹ کرنے میں کئی دہائیاں لگ گئیں اور کثیر سرمایہ لگا اور  اس کے ساتھ بھت بھاری مالی نقصانات بھی ہوئے۔ یہ سب کچھ برداشت کر چکنے کے بعد  اب اگر کوئی یہ بتائے کہ سندھ طاس معاہدہ پر عمل نہیں کریں گے تو پاکستانی اسے کچا چبا جانے کی حد تک چلے جاتے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے جا سکتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کی ضرورت 1948 میں اُس وقت پیش آئی تھی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کرنے کی کوششیں کی تھیں۔  دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری  نے ثالثی کی اور  19ستمبر 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔

اس معاہدے کے تحت انڈس بیسن سے ہر سال آنے والے مجموعی طور پر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جس میں تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب سے آنے والے 80 فیصد پانی پر پاکستان کاحق تسلیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہےجبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا۔

چوں کہ مغربی دریاؤں میں سے کئی کا منبع مقبوضہ کشمیر میں ہے، اس لیے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت بھی دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔

بھارت کی طرف سے ماضی میں اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور پاکستانی دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کرکے پاکستان آنے والے پانی کو کم کیا گیا۔

گزشتہ تین سال سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس نہیں ہو ا، دونوں ملکوں کے درمیان انڈس واٹر کمشنرز کا آخری اجلاس 30 اور 31 مئی 2022کو نئی دہلی میں ہوا تھا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت سال میں دونوں ملکوں کے کمشنرز کا اجلاس ایک بار ہو نا ضروری ہے۔