ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دیامر میں بارش سے سیلاب، تین سیاح جاں بحق، پندرہ لاپتہ، کئی گاڑیاں بہہ گئیں

 دیامر میں بارش سے سیلاب، تین سیاح جاں بحق، پندرہ لاپتہ، کئی گاڑیاں بہہ گئیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر  میں بارشوں کے باعث سیلابی ریلے  کے سبب  شاہراہِ قراقرم اور چلاس جھلکڈ روڈ ٹریفک کے لئے بند ہے۔ چلاس ضلع میں بابوسر روڈ پر سیلابی پانی کے ریلے میں 8 گاڑیاں بہہ گئیں۔  3 لاشیں ملی ہیں جبکہ 4 سیاحوں کو  زخمی حالت میں ریسکیو  کیا گیا۔ 15 سے زائد سیاح لاپتہ ہیں۔ 

 ریسکیو آپریشن آخری اطلاعات آنے تک جاری تھا۔

چلاس سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بابوسر روڈ پر سیلابی ریلے نے علاقے میں تباہی مچا دی لوگوں کے مکانات  فصلوں اور پھل کے درختوں کو نقصان پہنچا  ہے۔
 سیلاب کے باعث متعدد گاڑیاں بہہ گئیں،متاثرہ افراد نے ریسکیو امدادی کارروائی کرنے کی اپیل کی۔

تھک پریکا کے مقام بابوسر روڈ پر اچانک آنے والے سیلابی ریلے سے سڑک مکمل بند ہوگئی۔

سیلابی پانی مین بہہ جانے والی گاڑیوں میں مقامی پولیس کی ایک وین بھی شامل ہے۔ دوسری تین گاڑیاں بھی اچانک آنے والے سیلاب میں بہہ کر پتھروں سے بھرے نالے مین کافی دور تک چلی گئیں۔  ان گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

 

چلاس پولیس نے بتایا ہے کہ تھک جل سے تھک دیورے تک کئی مقامات پر بابوسر ناران نیشنل ہائی وے بند ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے اس صورتحال کا علم ہونے پر ریسکیو 1122 اور ایکسویٹر مشین موقع پر روانہ کر دی اور امدادی کارروائیاں  شروع کر دیں۔  

تھک جل سے تھک دیورے تک کئی مقامات پر بابوسر ناران نیشنل ہائے سڑک بند ہے۔ مسافر وں اور  عوام کو  بابوسر روڈ پر سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کنے تصدیق کی کہ سیلابی پانی سے مکانات  فصلوں اور پھلوں کو شدید نقصان پہنچا ۔
 گلگت  سے ریسکیو حکام نے بتایا کہ 4 افراد کو زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا جن کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

ترجمان  فیض اللہ فراق  نے بتایا کہ ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 3 سیاحوں  لاش نکالی گئی ہیں۔

  ترجمان نے بتایا کہ سیاحوں کی 8 سے زائد گاڑیاں سیلاب کی زد میں آئی ہیں ۔

15 سے زائد سیاح لاپتہ ہیں۔

اس اچانک سیلابی ریلے سے  کمیونیکیشن کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

سینکڑوں سیاح اور کئی علاقوں کے لوگ اپنے گھروں سے دور پھنس کر رہ گئے ، گھروں سے رابطہ منقطع ہے۔

 ترجمان  نے کہا کہ  شاہراہ بابوسر پر پھنسے سیکنڑوں سیاحوں کو حکومت نے ریسکیو کیا ہے ۔

اس وقت سینکڑوں سیاحوں کو مقامی آبادیوں میں عوام نے اپنے گھروں میں پناہ دی ہوئی ہے۔

 وزیر اعلی گلگت بلتستان نے  پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ 

ترجمان نے بتایا،  چلاس گلگت سیکشن پر سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث لال پڑی اور ڈونگ سمیت متعدد مقامات  شاہراہِ قراقرم ٹریفک کے لئے بند ہے۔  چلاس جلکھڈ روڈ اور شاہراہِ قراقرم کی بندش سے مسافر اور سیاح پھنس گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے عملے نے  سڑک کی بحالی کا کام شروع کیا ہے ۔