ملک اشرف:ہارس اینڈ کیٹل شو میں 25 ہزار لوگوں نے شرکت کی لیکن ٹریفک بند نہیں کی ،مال روڈ پر کرکٹ ٹیموں کی وجہ سے محدود ایریا میں ڈائیورشن لگائیں۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے ریمارکس دیئےکہ لوگوں کو ٹریفک سینس نہیں ہے اپنی لائن اور لین میں رہنا چاہیے۔
سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ ان پوائنٹس پر تین ماہ میں عملدرآمد کیلئے کوشش کررہے ہیں، خالی پلاٹوں پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پارکنگ بنانی چاہیے،ایوان عدل، ہائیکورٹ، ماڈل ٹاؤن کچہری اور نیلا گنبد پر پارکنگ کے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔
سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ بھکاری بچوں کے تین گینگز پکڑے ہیں،بھکاریوں کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہےحکومت کو سفارش کی ہے ،فٹ پاتھوں، پارکوں میں بھکاریوں کو روکنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔
بغیر ہیلمٹ سرکاری اہلکار کو جرمانہ کے ساتھ محکمے کو بھی لکھیں گے،لگژری گاڑیاں زیادہ رکھنے کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی، بڑی گاڑیوں والے خود کو قانون سے بالا سمجھتے،پبلک ٹرانسپورٹ بڑھانے سے سڑکوں پر رش کم ہوگا۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ آپ اپنی سفارشات عدالت میں پیش کریں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ الیکٹرک بسوں کو مین روٹس پر چلانے سے آلودگی کم ہوگی ۔
سی ٹی او نے کہا کہ خواتین اور ٹرانس جینڈر کیلئے لائسنس فیس میں رعایت ہونی چاہیےاب تک 18 ہزار خواتین کو ڈرائیونگ سکھائی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ گاڑیاں دھواں چھوڑتی جاتی ہیں آپ کے آفیسرز کچھ نہیں کرتے؟ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے آفیسرز ایسی گاڑیوں کی تصاویر لے کر آپ کو بھیجیں۔
سی ٹی او لاہور نے کہاکہ ٹریفک پولیس کی ڈیوٹی بہت سخت ہوتی ہے،کل ایک وارڈن کو گاڑی ٹکر مار کر نکل گئی، ،وارڈنز کے لئے ہیلتھ رسک الاؤنس ہونا چاہئے ۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کی پابندی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔