سپر گرین شرٹ سمیر منہاس نے آج روایتی حریف کے ساتھ فائنل میچ کو پاکستان ائیرفورس کے لیجنڈ پائلٹس والی سپرٹ کے ساتھ کھیلا، چھکے چوکوں کی ایسی سپری چلائی جو ان کے مجموعے کو 172 رنز پر اور پاکستان کو فتح کی دہلیز پر اور دشمن کو اس کے گھٹنوں پر لے آئی۔
دبئی کے انترنیشنل کرکٹ سٹیڈی میں آج اندر 19 ایشیا کپ کا فائنل کھیلا گیا۔
یہ فائنل میچ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان تھا۔اس فائنل پر جنوبی ایشیا کے کروڑوں کرکٹ لوورز کی نظریں تھیں۔
گرین شرٹس کے کیپٹن نے ٹاس ہارا تو انڈین کیپٹن نے بیتنگ پاکستان کو دے کر اپنی پوری ٹیم کو سمیر کے بے رحم بیت کے آگے ڈال دیا۔
سمیر منہاس نے 113 گیندوں کا سامنا کیا اور 172 رنز کی ناقابلَ فراموش اننگز کھیلی۔
سمیر نے 29 گیندوں سے ففٹی بنائی۔ اور 71 گیندوں سے سینچری بھی بنا ڈالی۔
سینچری کرنے کے بعد سمیر کا بیٹ بیٹ کی بجائے جے ایف 17 تھنڈر بن گیا۔ پھر ہمارے نئے سپر سٹار نے وہ کیا جو اس سے پہلے 6 اور 7 مئی کی رات کو اور اس کے بعد دس مئی کی صبح کو ہمارے دوسرے میدان کے کھلاڑیوں نے کیا تھا۔
سمیر بلوچ نے میچ میں 9 چھکے مارے اور 17 چوکے مارے، کوئی بھی باؤلر آج سمیر منہاس کے غضب سے نہیں بچ سکا۔ میچ دیکھنے کے لئے سٹیڈیم میں موجود کرکٹ کے پنڈت اور سینئیر ایکسپرٹ سب ہی پاکستان میں ایک نئے سپر سٹار کو ابھرتے دیکھ کر حیران اور خوش تھے۔
سمیر کے ساتھ احمد حسن نے 56 اور عثمان نے 35 رنز بنائے۔
پلئیر آف دی میچ اور پلئیر آف دی ٹورنامنٹ
سمیر منہاس کو آج کے میچ میں جیت کو اپنے قدموں مین کھینچ لانے والی بیٹنگ کے سبب پلئیر آف دی میچ ایوارڈ ملا۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں سمیر منہاس پاکستانی بیترز میں ممتاز ترین رہے اور تمام ایشئین ٹیموں میں بھی وہی سب سے ممتاز کھلاڑی نطر آئے، اس کئے منتظمین نے پلئیر آف دی ٹورنامنٹ بھی سمیر منہاس کو ہی قرار دیاْ