ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

زرعی ادویات اور کیڑے مار سپرے کی مارکیٹ پر جامع رپورٹ جاری

زرعی ادویات اور کیڑے مار سپرے کی مارکیٹ پر جامع رپورٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے زرعی ادویات اور کیڑے مار سپرے کی مارکیٹ سے متعلق ایک جامع جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں زرعی ادویات کے شعبے میں سنگین انتظامی اور قانونی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان زرعی زہروں اور کیڑے مار ادویات کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کر رہا ہے جبکہ مقامی سطح پر پیداوار نہ ہونے کے باعث اس شعبے میں سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ کمزور قانون نافذ کرنے کا نظام اور زرعی ادویات کی رجسٹریشن و منظوری کا پیچیدہ عمل بھی اس شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

کمپٹیشن کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی زہروں کا مسئلہ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے جبکہ کمزور انفورسمنٹ کے باعث جعلساز عناصر کھل کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دو سالہ شیلف لائف کی شرط کے باعث بڑی مقدار میں زرعی ادویات ضائع ہو رہی ہیں، جس سے کسانوں اور مارکیٹ دونوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صوبائی لیبارٹریوں میں جدید سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی ہے، جس کے باعث زرعی ادویات کے معیار کی جانچ مؤثر طریقے سے ممکن نہیں ہو پا رہی۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے اختیارات میں اوورلیپ نے نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

کمپٹیشن کمیشن نے سفارش کی ہے کہ زرعی ادویات سے متعلق قوانین میں بہتری لائی جائے، رجسٹریشن اور منظوری کے عمل کو آسان اور تیز کیا جائے جبکہ جعلی زرعی ادویات تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

رپورٹ میں مقامی سطح پر زرعی ادویات کی پیداوار کے فروغ، ملکی آب و ہوا کے مطابق ادویات تیار کرنے اور زرعی گریجویٹس کو لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹر بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔