مقبرہ جانی خان خستہ حالی کا شکار ہونے کے باعث حکام کی توجہ کا منتظر

مقبرہ جانی خان خستہ حالی کا شکار ہونے کے باعث حکام کی توجہ کا منتظر

(احمد رضا) لاہور میں مغل دور کے آثار قدیمہ میں مقبروں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، یہ مقبرے مغل خاندان اور مغل دربار کے امرا کے ہیں۔ ان میں سے بعض مقبروں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، جانی خان کا مقبرہ بھی ان آثار قدیمہ میں شامل ہے جہاں بہت زیادہ بحالی کی ضرورت ہے۔

جی ٹی روڈ پر باغبانپورہ کے علاقے میں واقع مقبرہ جانی خان کا تعارف تاریخ کی کتب میں مغل دور کے اہم امرا میں ہوتا ہے، بعض کتب میں ان کا تعارف میر معین الملک گورنر لاہور کے سسر کی حیثیت سے بھی ہے۔ انہوں نے مغل دربار میں نہ صرف اہم مقام حاصل کیا بلکہ جب لاہور اور پنجاب کا بیشتر علاقہ احمد شاہ ابدالی کے زیرنگین ہوگیا تو اس نے وہاں بھی مقبولیت حاصل کی۔ میر معین الملک کی وفات کے بعد جب اس کی بیٹی مغلانی بیگم گورنری کے فرائض انجام دے رہی تھیں تو بھی جانی خان اہم شخصیت کےطور پر جانا جاتا تھا۔

مقبرہ کےارد گرد باغ بھی تعمیر تھا مگراب اس کے آثار نہیں ملتے، مقبرے کی اپنی ظاہری حالت بھی کافی خراب ہوچکی ہے۔ مقبرے کا لائم پلاسٹر کافی جگہ سے اکھڑ چکا ہے، اندر سے بھی حالت اچھی نہیں دکھائی دیتی۔

مقبرے کے اندر تین قبریں واقع ہیں ان میں سے جانی خان کی قبر کونسی ہے اس کا پتہ لگانا مشکل ہے، دھول ہونے کی وجہ سے عمارت کا اندرونی حصہ اب کسی بھوت بنگلے سے کم دکھائی نہیں دیتا۔ پختہ فرش کا بھی نام و نشان موجود نہیں مگر عمارت کی عظمت رفتہ کے آثار اب بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

عمارت کے اوپر تو لکھا ہے کہ اس کو نقصان پہنچانے والے کو جرمانہ اور قید ہوگی اب اگر اس عمارت کا خیال ہی نہیں رکھا گیا اور غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے تو سزا کس کو ملنی چاہیے۔

لاہور میں اور کیا کچھ ہو رہا ہے ؟ جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں

https://www.youtube.com/channel/UCdTup4kK7Ze08KYp7ReiuMw