سٹی 42: بیوی سے لڑائی اور رکشہ خراب ؛ شہری خودکشی کرنے 132 کے وی کے کھمبے پر چڑھ گیا
ماڈل ٹاؤن کے علاقے ارفع کریم ٹاور کے پاس شہری کھمبے پر چڑھ گیا، پولیس نے بتایا کھمبے پر چڑھنے والے شخص کی شناخت محمد نواز کے نام سے ہوئی ، چوہنگ کا رہائشی ہے ،بیوی سے لڑائی کے بعد خودکشی کرنے آیا ، شہری نےکہا کہ کھمبے پر چڑھ کر زندگی ختم کرنا چاہتا ہوں ،بیوی کی لڑائی جھگڑے سے تنگ آگیا ہوں۔
لیسکونےہائی ٹرانسمیشن لائن سےبجلی کی فراہمی معطل کردی،132کےوی ٹرانسمیشن لائن سےگارڈن ٹاؤن گرڈکوسپلائی معطل کردی گئی ، ماڈل ٹاؤن گرڈسٹیشن سےگارڈن ٹاؤن گرڈسٹیشن کوسپلائی بحال کردی گئی
ھمبے پر چڑھنے والا شخص رکشہ ڈرائیور ہے۔ہائی وولٹیج تاروں کے کھمبے پر چڑھنے والے شخص کو اتارنے کیلئے ریسکیو1122 پہنچ گئی۔ریسکیو1122 کے آپریشن اور کھمبے پر چڑھنے والے شخص کی حفاظت کیلئے سپلائی معطل کی گئی۔
لیسکو نے بتایا کہ 132 کی ایک اور 11 کے وی کے 2 فیڈرز بند کیے گئے ہیں ،محمد نواز تقریبا 100 فٹ پلس اونچائی پر ہے۔ٹریفک دباؤ کی وجہ سے سکائے لفٹ کو موقع پر پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرانا پڑ رہا ہے ، ریسکیو 1122 کیجانب سے محمد نواز کو اتارنے کیلئے ہائٹ ریسکیوکرنے کیلئے برانٹو سکائے لفٹ کا انتظار تھا ، لفٹ پہنچ چکی ہے ، ریسکیو نے اپنا آپریشن شروع کردیا ، فیروزپور روڈ کے دونوں اطراف میں گاڑیوں کی قطاریں اور شہریوں کا ہجوم ہے ،اوپر 11 ہزار کے وی کی تاریں ہیں اس لیے حفاظتی تدابیر اختیار کی جارہی ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں ، ریسکیو کاروائی جاری ہے، محمد نواز کا ذہنی توازن درست نہیں بتایا جارہا،محمد نواز کی گھر والوان سے لڑائی بھی ہوئی جس کے باعث انتہائی قدم اٹھایا، شہری کے اہل خانہ بھی موقع پر موجود ہیں،
رکشہ ڈرائیورکوکھمبےسے کب اتاراجائے گا؟غریب رکشہ ڈرائیورکو تاحال کھمبے سے اتارا نہ جاسکا، محمد نواز کو کھمبے پر چڑھے تقریباً 1 گھنٹہ گزرگیا،محمد نواز کو کھمبے سے اتارنے ریسکیو آپریشن کی تیاریاں کی جارہی ہیں ، ہائی وولٹیج تاروں کے باعث حفاظتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں،
ارفع کریم ٹاورکے قریب فیروز پورروڈ پرٹریفک کی روانی متاثر ہے ، فیروز پور روڈ پر شہری رک کر صورتحال دیکھنے لگے
بیوی سے لڑ کر کھمبے پر چڑھنے والے محمد نواز کی بیوی شازیہ نواز نے سٹی42 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
حکومت نے مہنگائی اتنی کردی ہے کہ گھر میں غریبی اور فاقے ہیں۔ جب گھر میں 2 دن کھانا نہیں بنے گا تو خودکشی ہی کریں گے۔ رکشے کی قسطیں بھی سر پر چڑھی ہوئی ہیں تو کیا کریں۔
حکومت ہماری غریبی ختم کرے