سٹی42: ڈاکٹر عمر عادل کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے گرفتار کرلیا۔
حکام کے مطابق ڈاکٹر عمر عادل نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر نسلی منافرت پھیلانے والی باتیں کی تھیں اور ایک برادری کے متعلق نازیبا کلمات کہے تھے۔ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے درخواست ملنے پر عمر عادل کے خلاف انکوائری کا آغاز کیا تھا۔ آج اسے گرفتار کر لیا گیا۔
آرتھوپیڈک سرجن عمر عادل اکثر حالات حاضرہ اور سماجی سیاسی موضوعات پر متنازعہ باتیں کر کے توجہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔
عادل عمر پہلے خواتین کے متعلق نازیبا باتیں کر کے توجہ حاصل کرتے رہے۔ ان حرکتوں پر پاکستانی سوشل میڈیا کےسنجیدہ حلقوں نے عادل عمر پر تنقید کی اور ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
تنازعہ: جولائی 2024 میں عمر عادل نے ایک "آن لائن ٹاک شو" کے دوران صحافی خواتین، میڈیا پروفیشنلز کے خلاف توہین آمیز، جنس پرستانہ تبصرے کرنے کے بعد توجہ حاصل کی۔ عمر عادل کے ریمارکس نے بڑے پیمانے پر مذمت کو جنم دیا۔ اس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں اس نے معافی بھی مانگی۔
قانونی کارروائی: اکتوبر 2024 میں، ایک سیشن عدالت نے ٹی وی میزبان عائشہ جہانزیب کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیے گئے مبینہ طور پر جنسی طور پر واضح ریمارکس سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر بنےسائبر کرائم کیس میں ان کی ضمانت مسترد کر دی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عمر عادل نے سوشل میڈیا پر اس بیان کے بارے میں معذرت بھی کر لی تھی۔