رمضان المبارک میں جامعہ مسجد داتا دربار کو کھولنے کا فیصلہ

رمضان المبارک میں جامعہ مسجد داتا دربار کو کھولنے کا فیصلہ

(شاہد ندیم سپرا) محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے رمضان المبارک میں جامعہ مسجد داتا دربار کو کھولنے کا فیصلہ کر لیا، احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کر کے پنجگانہ نماز اور نماز تراویح کی ادائیگی ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق حکومتی تدابیر پرعمل کرکے جامعہ مسجد داتا دربار کو کھولا جائے گا، نماز کی ادائیگی کے لئے آنے والے زائرین کو مزار شریف پر جانے کی اجازت نہیں ہو گی ، نماز کی ادائیگی کے لئے آنے والے زائرین کمپلیکس کے احاطے سے فاتحہ خوانی اور دعا مانگ سکیں گے۔

داتا دربار کے چار داخلی راستوں پر ڈس انفیکشن ٹنل کی تنصیب کی جا رہی ہے جبکہ داخلی راستوں پر ہینڈ سینیٹائزر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا، جامعہ مسجد داتا دربار میں نماز تراویح اور نماز پنجگانہ باجماعت ہوا کرے گی، انتظامات مکمل ہونے پر آنے والا جمعہ مبارک کی نماز بھی ادا کی جائے گی۔

دوسری جانب حکومت نےآئندہ جمعہ کویومِ توبہ اوریومِ رحمت منانےکااعلان کردیا ہے۔ وزیراعظم کی زیرصدارت علماکرام کےاجلاس میں رمضان میں مساجد کھلی رکھنےکافیصلہ کیاگیا۔  علمائےکرام نےلاک ڈاؤن کےحوالے سے وزیراعظم کے مؤقف کی تائیدکی اورمکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وزیرِاعظم عمران خان کی زیرِصدارت علماءکرام کااجلاس ہواجس میں رمضان المبارک کے حوالے سےمسائل زیربحث آئے۔  گورنرسندھ عمران اسماعیل، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان اورعلامہ شہنشاہ حسین نقوی نےکراچی سے ویڈیولنک  کےذریعےاجلاس میں شرکت کی۔ علماءکرام کےوفدنےلاک ڈاؤن کےحوالےسےوزیرِاعظم کےمؤقف کی بھرپورتائید کی اورمکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس کےبعدمیڈیاسےگفتگوکرتےہوئےمعاون خصوصی برائےاطلاعات فردوس عاشق اعوان نےبتایاکہ آئندہ جمعہ یوم توبہ اور یوم رحمت کےطورپرمنایاجائےگا۔ رمضان میں مساجد کھلی رکھنےکافیصلہ کیاگیاہے۔

اجلاس کے بعدمولاناطاہراشرفی نےکہاکہ حکومتی اقدامات پرعمل کریں گےاورکروائیں گے۔  انھوں نےکہاوزیرِاعظم نےلاک ڈاؤن کےدوران گرفتارعلماء کی رہائی اوردرج مقدمات کوختم کرنےکی یقین دہانی کرائی۔

علاوہ ازیں رمضان المبارک میں نماز تراویح سمیت دیگر امور پر لائحہ عمل طے کرنے کیلئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرصدارت گزشتہ روزاجلاس ہوا، جس میں چاروں صوبوں کے گورنرز، چیف سیکرٹریز اور علمائے کرام نے شرکت کی، گورنر پنجاب، مولانا حنیف جالندھری، حافظ طاہراشرفی، علامہ قاضی نیاز حسین نقوی، صاحبزادعبد اللہ مصطفی،علامہ ابتسام الٰہی ظہیرمولانا غلام احمد سیالوی پیر حبیب عرفانی سمیت35 علماء بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.  ملاقات میں 20 نکاتی اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق نماز تروایح مسجد کے کھلے صحن میں ادا کی جائےگی، مسجد کے صحن میں چٹائیاں، صفیں اور دریاں نہیں بچھائی جائیں گئی، نمازی 6 فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہونگے، بوڑھوں اور بچوں کو مسجد جانے کی اجازت نہیں ہوگی، بخار، کھانسی اور کسی بیمار شخص کو مسجد میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

نماز سے پہلے اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے، صف بندی کے دوران نمازیوں میں 6 فٹ کا فاصلہ کیا جائے، مسجد میں نماز کیلئے کھڑے ہونے کیلئے نشان لگا یا جائے، کوئی بھی نمازی مسجد میں کسی سے بغل گیر نہیں ہوگا، وضو گھر سے ہی کر کے مسجد میں جایا جائے،مسجد کے فرش کو صاف کرنے کیلئے کلورین کے محلول سے دھویا جائے، مسجد میں چٹائی پر بھی کلورین کے محلول کا چھڑکاؤ کیا جائے، کورونا سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔