ویب ڈیسک:جسم کو درکار پانی کی مقدار کا عمر اور صحت سے گہرا تعلق ہے، پیاس نہ لگنے پر بھی پانی پینا چاہیے۔
کسی بھی انسان کو ایک دن میں بالعموم کتنا پانی پینا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین کے درمیان تھوڑا سا اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔
بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی نارمل انسان کو یومیہ 2 لیٹر پانی پینا چاہیے۔ عام طور پر آٹھ گلاس پانی 2 لیٹر کے برابر ہوتا ہے۔
بعض ماہرین کی رائے یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے دن میں کم از کم ڈیڑھ لیٹر پانی لازم ہے۔ 300 ملی لیٹر والے پانچ گلاس پانی پینا کافی ہوتا ہے۔
چند ایک ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ دن بھر میں آٹھ تا دس گلاس پانی پینا جسم کی ضرورت پوری کردیتا ہے۔
بیشتر ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پیاس لگے یا نہ لگے، پانی پیتے رہنا چاہیے کیونکہ جسم کو پانی کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جسم کے لیے پانی کی ضرورت تو بڑھتی ہے تاہم ایسے میں پیاس لگنا لازم نہیں ہوتا۔ کم پانی پینے سے جسم نڈھال سا ہونے لگتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پیاس نہ لگنے پر بھی پانی کی مطلوب مقدار پوری کرنا لازم ہے۔
ماہرین نے پانی کی مقدار کے حوالے سے چند سفارشات کی ہیں جن کے مطابق 4 سے 8 سال کے بچوں کو روزانہ 7 کپ پانی پینا چاہیے۔
9 سے 13 سال کے لڑکوں کو 10 جبکہ اسی عمر کی لڑکیوں کو 9 کپ پانی پینا چاہیے، 14 سے 18 سال کے لڑکوں کو 14 جبکہ اسی عمر کی لڑکیوں کو 10 کپ پانی پینا چاہیے۔
اسی طرح بالغ خواتین کو روزانہ 2.7 لیٹر (یا 11 کپ) جبکہ مردوں کو 3.7 لیٹر (یا 15 کپ) پانی پینا چاہیے۔
یہ واضح رہے کہ اتنی مقدار میں سیال ضروری نہیں کہ صرف پانی کے ذریعے جسم کا حصہ بنایا جائے۔