سٹی42: سعودی عرب، فرانس، ناروے اور اسپین نے فلسطینی تھارٹی کی مدد کے لیے عالمی فنڈ ریزنگ مہم کا آغاز کیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق ممکنہ ڈونر ریاستوں کو ایک خط میں کہا گیا ہے کہ فرانس، ناروے، سپین اور سعودی عرب فلسطینی اتھارٹی کے عملاً ختم ہو جانے کو روکنے کے لیے ہنگامی امدادی پیکج کے گرد ممالک کو اکٹھا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل نے (فلسطینی اتھارٹی) کے سینکڑوں ملین ڈالر روکے ہوئے ہیں۔
مسلسل چار مہینوں سے، اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلل سموترچ فلسطینی اتھارٹی کے ریونیو کی کلئیرنس اور منتقلی سے انکار کر رہے ہیں جو اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اکٹھا کرتا ہے۔ یہ فنڈز رام اللہ کے بجٹ کا زیادہ تر حصہ بناتے ہیں اور ان کی بندش نے فلسطینی اتھارٹی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
ممکنہ عطیہ دہندگان کے نام خط میں, جو پیر کو اقوام متحدہ میں فرانسیسی-سعودی حکومتوں کی بلائی ہوئی "دو ریاستی حل کانفرنس" میں شرکت کریں گے، یہ کہا گیا ہے کہ شرکاء سے توقع ہے کہ وہ اسرائیل سے فلسطینی فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کریں گے۔
تاہم، "ٹو سٹیٹس سالیوشن کانفرنس" کے منتظمین نے اس امکان کو پیش نظر رکھاہے کہ یروشلم اس مسئلے پر تبدیل نہیں ہو گا اور اس لیے فلسطینی اتھارٹی کے آپریٹنگ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اگلے چھ ماہ میں سے ہر ایک کے لیے 200 ملین ڈالر کا فنڈ ریزنگ کا ہدف مقرر کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ "نجی شعبے کی بحالی اور فلسطینی بینکوں سمیت ضروری تجارتی اداروں کے کام کے لیے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔"
ایک یورپی سفارت کار نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ چار شریک ممالک پہلے ہی فلسطینی اتھارٹی کو چھ ماہ کے لیے 200 ملین ڈالر ماہانہ دینے پر راضی ہو چکے ہیں، لیکن امید ہے کہ دوسرے ممالک اس بوجھ کو بانٹنے میں مدد کریں گے۔
سعودی عرب، فرانس، ناروے اور سپین کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ "فلسطینی اتھارٹی ایک پرجوش اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں مصروف ہے، جس کا مقصد ڈھانچہ جاتی/ سٹرکچرل تبدیلیاں کرنا ہے جو ایک جدید، شفاف اور جوابدہ ریاست کی بنیاد ڈالیں۔ " سعودی عرب، فرانس، ناروے اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ وہ رام اللہ کے لیے ایک اور بین الاقوامی فنڈ ریزنگ مہم کو جواز فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
اس کوشش میں سعودی عرب کی شمولیت خاص طور پر قابل ذکر ہے، کیونکہ ریاض پہلے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے سب سے بڑے ناقدین میں سے ایک تھا، سعودی عرب کی طرف سے ان پر بدعنوانی کا الزام لگایا جاتا تھا۔
اس کوشش میں سرکردہ عرب ملک کی شمولیت محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی کی حالیہ اصلاحاتی کوششوں کو جواز فراہم کرتی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ کے ساتھ ساتھ " کلیئرنس ریونیو " روکے جانے، مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد اور فلسطینی بینکوں میں منتقلی روکنے کی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی کو "وجود کے خطرے" کا سامنا ہے۔
چاروں ممالک کا کہنا ہے، ایک قابل عمل فلسطینی ریاست جو فلسطینی عوام کی ضروریات اور امنگوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور امن کے مستقبل کے لیے ضروری ہو گی۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ "اس لیے ہمیں فلسطینی اتھارٹی کے مالیاتی خاتمے کو روکنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے، جس کے فلسطینی معاشرے، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سلامتی پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔" ’’مالی کمی فلسطینی ریاست کی ناکامی اور مشرق وسطیٰ کے عدم استحکام کا سبب نہیں بن سکتی‘‘۔
خط میں کہا گیا ہے کہ "ہمیں ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے ساتھ، ہم آنے والے دنوں میں فلسطین کے لیے ایک ہنگامی اتحاد کو تیزی سے مربوط کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔"