سٹی42: راولپنڈی میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے پنجاب کی وزیراعلیٰ پر سخت تنقید کر دی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کو "جعلی وزیراعلیٰ" قرار دے دیا۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی نے میڈیا کیمروں کے سامنے کہا، میرے پاس کورٹ کے آرڈر ہیں مجھے ملنے نہیں دیا جارہا ۔ ہنجاب کی جعلی وزیر اعلی کو بحیثیت عورت شرم آنا چاہئے۔
جو واقعہ یہاں پرسوں ہوا وہ ہماری مشرقی روایات کے خلاف ہے ۔ میرے لیڈر کی بہنوں کو ملنے دینا ان کا حق ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ "بانی کی بہنیں غیر سیاسی عورتیں ہیں"، اس کےساتھ ہی انہوں نے کہا، اگر ان کے ساتھ یہ سب ہورہا ہے تو وہ پھر سیاسی ہیں. " اگر ان کی حکومت میں یہ ہو رہا ہے تو یاد رکھیں اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا ۔
سہیل آفریدی نے پنجاب کی خاتون وزیراعلیٰ کو دھمکی دی، اگر غیر سیاسی عورتوں کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو وہ سیاسی ہیں، اگر ان کے ساتھ کچھ ہوا تو پھر عورت کارڈ کا حق کسی کو نہیں ہو گا، "عورت کارڈ کھیلنے کا حق کسی کو نہیں دیں گے ."
سہیل آفریدی نے کہا، میں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سب کو خط لکھے مگر ملنے نہیں دیا جارہا ۔ عدالتی حکم کو ردی کی ٹوکری میں ہھینکا جارہا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے تین بار رابطہ کیا مگر رسپانس نہیں ملا ۔ اب مجھے بتایا جائے کہ اب مجھے کیا کرنا چائیے ؟؟؟
سہیل آفریدی نے مزید کہا، "میں صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہوں میرا پاسپورٹ انہوں نے لے لیا .میرا پیسہ ہاکستان سے باہر نہیں ہے میں نے کہاں جانا ہے ۔"
ایک صحافی نے سہیل آفریدی سے یہ بے ہودہ سوال پوچھا، " آپ نے کہا تھا کہ کچھ بڑا ہونے جارہا ہے تو کیا آپ کا وفاق سے علحدگی کا ارادہ ہے."
اس سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا، "پاکستان میرا ہے۔ میں پاکستانی ہوں جو ہاکستان سے علحدگی کا سوچے گا وہ غدار ہے۔"
سہیل آفریدی جو خود 26 نومبر کو ریاست کی املاک اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے مقدمے میں ملوث ہیں، انہوں نے الزام لگایا کہ 26 نومبر کو نہتے شہریوں پر گولیاں چلائی گئیں .ہمارے جتنے احتجاج ہوئے آئین اور قانون کی دائرے میں کئے تھے ۔ جامعہ حفصہ گلگت بلتستان میں جو ہوا وہ یاد رہے گا ۔
انہوں نے یہ بھی کہا، "جو بند کمرے میں پالیسیاں بنتی ہیں, ملک کو نقصان پہنچتا ہے."
سرکاری ملازموں کو سنگین دھمکیاں دینے کی ایک حالیہ وائلیشن پر الیکشن کمیشن کی طرف سے اپنے خلاف شروع ہونے والی قانونی کارروائی کے متعلق سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا، میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ہیش کیا گیا۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ دھاندلی ہونے نہ دیں۔ میں نے عمر ایوب کے الیکشن میں صرف دھاندلی نہ ہونے کا کہا تھا ۔