جعلی رجسٹریوں کی تیاری اور ریکارڈ میں ردوبدل کا انکشاف

جعلی رجسٹریوں کی تیاری اور ریکارڈ میں ردوبدل کا انکشاف

( عثمان علیم ) ضلع لاہور میں جعلی رجسٹریوں کی تیاری اور ریکارڈ میں چسپاں کرنے کا معاملہ، سابق ریکارڈ کیپر نوید یوسف بٹ کے خلاف کیس مزید انکوائری کیلئے محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔

ضلع لاہور میں جعلی رجسٹریوں کی تیاری اور ریکارڈ میں چسپاں کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس پر سب رجسٹرار داتا گنج بخش ٹاؤن نے لینڈ مافیا اور جعلی رجسٹریوں کے انکشاف پر انکوائری رپورٹ مرتب کی اور تمام شواہد، ثبوت اے ڈی سی جی کو بھی پیش کیے۔ ذرائع کے مطابق سابق ریکارڈ کیپر نوید یوسف بٹ اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں کیس بھجوا دیا گیا ہے۔

سب رجسٹرار داتا گنج بخش ٹاؤن بلال اصغر نے اے ڈی سی جی کو دی جانے والی رپورٹ میں اہم انکشافات کئے اور جن جن مقامات پر جعلسازی سے کاغذات لگوائے گئے ان کی نشاندہی بھی کر دی، سبزہ زار میں پلاٹ نمبر 72 رقبہ تعدادی 5 مرلہ گھر کی جعلی رجسٹری ریکارڈ میں چسپاں کی گئی، ایل ڈی اے جوہر ٹاؤن میں ایک کنال کے پلاٹ پر جعلی رجسٹری استعمال کی گئی، مال روڈ پر 4 کنال اور لاہور کے مختلف علاقہ جات میں آنیوالی جائیداد میں 11 سے زائد بوگس رجسٹریاں چسپاں کی گئی۔

سب رجسٹرار بلال اصغر نے محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا کہ رجسٹری ریکارڈ روم میں 6 سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں، ریکارڈ روم کو 5 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے الگ الگ ریکارڈ کیپر لگائے جائیں اور آفس سپرنٹنڈنٹ اور کلرک انچارجز کیپر لگائے جائیں جن پر مکمل ذمہ داری عائد ہو۔