ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بہترین کالجز و اساتذہ کے ایوارڈز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

بہترین کالجز و اساتذہ کے ایوارڈز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عمران یونس: بہترین کالجز، اساتذہ اور پرنسپلز کے ناموں کے اعلان کے معاملے میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق منتخب شدہ افراد کی جانب سے پرفارمز میں بوگس ڈیٹا استعمال کیا گیا جبکہ موصول ہونے والی فہرستوں میں ناموں کو خود تبدیل کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بیشتر کالجز کے اساتذہ نے غلط اور جعلی معلومات فراہم کیں، یہاں تک کہ ایسے لائبریرینز کو بھی بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ سے نواز دیا گیا جنہوں نے کبھی کلاس نہیں پڑھائی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چند دن قبل تعینات ہونے والے پرنسپلز کو بھی سالانہ کارکردگی کی بنیاد پر ایوارڈ دے دیے گئے، جس نے پورے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 اس کے علاوہ ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے بھجوائی جانے والی فہرستوں کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی سطح پر خود تبدیل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جب ڈائریکٹر کالجز نے ان تبدیلیوں پر سوالات اٹھائے تو متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل صوبہ بھر کے کالجز میں تعلیم اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) نے بہترین کالجز، پرنسپلز اور اساتذہ کے نام جاری کیے تھے۔

 یہ نام متعلقہ اداروں اور افراد کی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کیے گئے تھے۔

جاری کردہ لسٹ میں 306 اساتذہ کے نام شامل ہیں، جنہوں نے تدریسی معیار اور طلباء کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے 39 اساتذہ کو بھی بہترین قرار دیا گیا ہے۔

 شہر کے کالجز کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق 3 کالجز سمیت مجموعی طور پر 28 کالجز کو بہترین قرار دیا گیا ہے، جبکہ شہر کے 4 پرنسپلز سمیت مجموعی طور پر 28 پرنسپلز کو ان کے انتظامی امور اور قیادت کی بنیاد پر سراہا گیا تھا۔