ویب ڈیسک : آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے کامیاب انعقاد کے بعد اس سے حاصل ہونے والے ریونیو کے متعلق پی سی بی کا مؤقف سامنے آگیا، بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو چیمپیئنز ٹرافی کے انعقاد سے تین ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے، ہم مجموعی طور پر مالی لحاظ سے مضبوط ہوئے ہیں۔
چیئرمین پی سی بی کے مشیر عامر میر اور چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) جاوید مرتضیٰ نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر عامر میر نے کہا کہ دو ارب روپے منافع کا تخمینہ لگایا تھا لیکن تین ارب روپے منافع کا تخمینہ ہے، توقع سے زیادہ منافع ہوا، یہ منافع گیٹ منی اور گراؤنڈ فیس سے حاصل ہوا ہے، پی سی بی کی طرف سے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا کوئی پیسہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی سب آڈٹ ہونا ہے لیکن اس کے باوجود تین ارب کے منافع کا تخمینہ لگایا ہے، پی سی بی نے چار اب روپے حکومت کو ٹیکس دیا ہے، آئی سی سی نے تمام اخراجات اٹھائے، 70 ملین ڈالرز کا آئی سی سی نے بجٹ بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے پیسے میں کمی نہیں اضافہ ہو رہا ہے، پی سی بی نے چیمپئنز ٹرافی کا کامیابی سے انعقاد کیا، تمام بڑی ٹیموں نے پاکستان میں کرکٹ کھیلی، چیئرمین محسن نقوی نے گراؤنڈز کی آپ گریڈیشن کا مشکل ٹاسک لیا اور پھر مکمل کیا، قذافی اسٹیڈیم 90 فیصد نیا بنا، یہ ملک کا اثاثہ ہے۔
عامر میر نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا پراپیگنڈا بے نقاب کرنا ہے جو اس وقت کیا جا رہا ہے، پاکستان دشمن میڈیا ایک جھوٹ کی دکان چلا رہے ہیں، افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی میڈیا نے بھی یہ چلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا پر چیمپیئنز ٹرافی میں پی سی بی کو مالی نقصان کی خبریں بے بنیاد ہیں، پاکستان کو چیمپیئنز ٹرافی کے انعقاد سے تین ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔
جاوید مرتضیٰ نے اس موقع پر کہا کہ پی سی بی کو کوئی مالی نقصان نہیں کیا، 2023 اور 24 کے مالی سال میں 10 ارب کا منافع ہوا، اسٹیڈیمز کے لیے بجٹ 18 ارب روپے تک تھا۔ انہوں نے کہا کہ دو مرحلوں کا بجٹ 18 ارب تھا، پہلا مرحلہ 12.80 ارب کا تھا، ہم مجموعی طور پر مالی لحاظ سے مضبوط ہوئے ہیں، یہ آئی سی سی کا ایونٹ تھا جس کا انعقاد پی سی بی نے کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیڈیم صرف چیمپئنز ٹرافی کیلئے نہیں بلکہ اگلے 30 سال کیلئے بنائے ہیں، پی سی بی مالی طور پر مستحکم ہے۔