سٹی 42: سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافے کی تجویز منظور ہوگئی ۔
کمیٹی نے اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکسز میں اضافے کی تجویز منظور کر لی ۔ڈی سی اسلام آباد نے کہا ایک ہزار سی سی تک کی گاڑی پر ٹوکن ٹیکس 10ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کرنے کی تجویز تھی ۔پرانی گاڑیوں پر اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا ۔اسلام آباد میں 2019 سے ٹوکن ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔پنجاب اور سندھ میں ایک ہزار سی سی کی گاڑی پر 20 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ۔ایک ہزار سی سی سے 1300 سی سی کی گاڑی کی قیمت پر 0.25 فیصد ٹوکن لگانے کی تجویزہے ۔ 1301 سے 1500 سی سی گاڑی کی انوائس پر 0.25 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے ۔ 1501 سے 2ہزار سی سی گاڑی پر 0.25 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے ۔ 2 ہزار سے 2500 سی سی کی گاڑی کی قیمت پر 0.35 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے ۔
جاوید حنیف نے پوچھا کہ اسلام آباد میں ٹوکن ٹیکس کیوں وصول کیا جا رہا ہے ؟ عوام سے درجنوں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں ۔عوام کو ٹیکس ادا کرنے کے لیے ہر روز ذلیل ہونا پڑتا ہے۔
حنا ربانی کھر نے کہا عوام سے لائف ٹائم ٹوکن ٹیکس وصول کر لیا جائے ۔گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس 5 یا 10 سال بعد لیا جا سکتا ہے ۔