(ویب ڈیسک )عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت معمولی اضافے کے باوجود ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 8 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 66 سینٹ اضافے کے بعد 80.38 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 94 سینٹ اضافے کے بعد 77.54 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں سیزفائر کے بعد سپلائی کے حوالے سے خدشات میں کمی آئی ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں دباؤ کم ہوا ہے تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت پر نئی شرائط نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے شپنگ ٹریفک کو پاسج کے لیے ریولوشنری گارڈز سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی چین پر ممکنہ اثرات کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں اضافی 85 ملین بیرل تیل کی فراہمی ممکن ہے، جس سے آئندہ مہینوں میں قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق اگر سپلائی معمول پر آتی ہے تو آئندہ 6 سے 12 ماہ میں برینٹ آئل کی قیمتیں 60 سے 65 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوری طور پر قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن مجموعی رجحان اب بھی کمی کی جانب ہے، اور مارکیٹ آئندہ دنوں میں مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار رہ سکتی ہے۔