ویب ڈیسک:عمرہ زائرین کے لیے سعودی عرب نے سفری انتظامات سے متعلق نئے قواعد متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جن کا مقصد زائرین کو ایک منظم، مربوط اور معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت عمرہ ویزہ حاصل کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ جامع دستاویزات اور سروسز کی تصدیق لازمی ہوگی، جبکہ اس پر مرحلہ وار عمل درآمد یکم ربیع الاول سے شروع کیا جائے گا۔
نئے ضوابط کے مطابق عمرہ ویزہ جاری کرنے کے لیے ہوٹل بکنگ اور ٹرانسپورٹ ووچر کے ساتھ اب کھانے کا ووچر بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ہر رات کے حساب سے 20 سعودی ریال مالیت کا فوڈ ووچر ویزہ درخواست کا لازمی حصہ ہوگا، جبکہ اس پورے نظام کو نسک (Nusuk) پلیٹ فارم کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں اس نئی پالیسی کا اطلاق پاکستان، بھارت، مصر اور بنگلہ دیش سے آنے والے عمرہ زائرین پر کیا جائے گا۔ سعودی وزارت الحج و العمرہ نے اس منصوبے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقریباً 10 ہزار ریسٹورنٹس کو نسک پلیٹ فارم سے منسلک کر دیا ہے تاکہ زائرین کو معیاری، محفوظ اور منظم غذائی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزارت کے مطابق عمرہ زائرین کی آمد سے لے کر واپسی تک تمام انتظامات کو ایک مربوط اور شفاف نظام کے تحت چلانے کے لیے عمرہ کمپنیوں، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور کیٹرنگ سروس فراہم کرنے والے اداروں کو بھی ذمہ دار بنایا گیا ہے تاکہ تمام خدمات باہمی رابطے کے ساتھ فراہم کی جا سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس عمرہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی متعدد کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا گیا تھا اور ان پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ نئی منظور شدہ عمرہ کمپنیوں کو نسک سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ تمام سہولیات ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مہیا کی جا سکیں۔