رحمت ا للعالمین ﷺ کے نقش قدم سے برکت پانے والی تاریخی پگڈنڈی

رحمت ا للعالمین ﷺ کے نقش قدم سے برکت پانے والی تاریخی پگڈنڈی
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: سعودی عرب کے تاریخی شہر تبوک میں  رحمت ا للعالمین کے نقش قدم سے برکت پانے والی تاریخی پگڈنڈی، ’نقیب البکرہ پگڈنڈی‘ اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنے قدم رکھے اور اس کی خاک نے آپ اور آپﷺ کے صحابہ کی بھی قدم بوسی کی۔

’نقیب البکرہ پگڈنڈی۔ ٹریک کے زیادہ تر راستے اور اس کے اہم حصے جن میں سب سے زیادہ نوشتہ جات موجود ہیں تبوک کے علاقے میں واقع ہیں ایک تاریخی یادگار ہے جس کا تعلق قبل از اسلام سے ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم گذر ہوا۔ 

تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ پگڈنڈی "اللحیانیہ اور نبطیوں" کے تمام ادوار میں خوشحال، مصروف اور آباد راستہ تھا۔ محل وقوع کے اعتبار سے یہ تبوک کے جنوب میں واقع ہے جہاں پہاڑوں کی چٹانوں پر نبطیوں کے نوشتہ جات کی یادگاریں موجود ہیں۔ قدیم نبطی باداشاہت جزیرہ نما عرب کے شمال مغرب میں واقع تھی۔ بکرہ ٹریک شامی حج روڈ کے مغرب میں واقع ہے۔یہ پکڈنڈی اس شاہراہ کے تقریبا متوازی شکل میں ایک ٹریک میں چلتی ہے۔ یہ راستہ بحر عویرض، الجو، حرۃ الرحاۃ، وادی الرویشد اور دیگر مقامات سے گذرتا ہے۔ یہ الحجر سے البترا تک پرانا اور سیدھا راستہ ہے۔

 ایک سعودی فوٹو گرافر  کے مطابق اس راستے کے اطراف میں قدیم نبطی، اللحیانی،ثمودی،المسند اوریونانی رسم الخط میں لکھے نوشتوں سے مزین ہے۔ درب نقیب البکرہ میں کئی مقامات پر حفاظتی ٹاور بھی موجود ہیں جنہیں پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ پکڈنڈی کے ساتھ ساتھ کچھ جگہوں پر قبروں کے ٹیلے بھی ہیں جو نبطیوں کے دور سے تعلق رکھتی ہیں۔