وقاص عظیم: سابق نگران وفاقی وزیر اور چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک شرح سود کو 5 فیصد مہنگائی کے برابر لائے، شرح سود کم کرنے سے مقامی قرض پر سود کی ادائیگیاں آدھی رہ جائیں گی۔
سابق نگران وفاقی وزیر اور چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ وزارت خزانہ کی رپورٹ میں مقامی قرضوں پر بھاری شرح سود کی ادائیگیوں کو تسلیم کیا گیا، حکومت مقامی قرضوں پر 15.82 فیصد سود ادا کر رہی ہے،حکومت مقامی بینکوں سے سب سے زیادہ قرضہ لے رہی ہے، مقامی بینک گورنمنٹ سیکیورٹیز میں 100 فیصد سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
گوہر اعجاز کاکہناتھا کہ سٹیٹ بینک شرح سود کو 5 فیصد مہنگائی کے برابر لائے، شرح سود کم کرنے سے مقامی قرض پر سود کی ادائیگیاں آدھی رہ جائیں گی،ان کاکہنا تھا کہ ٹیکس گزاروں کا 3 ہزار 500 ارب روپےبینکوں کے منافع پر خرچ کیا جا رہا ہے،شرح سود کو بلند رکھنے سے مہنگائی کو کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ؟ جب حکومت 70 فیصد مجموعی ملکی قرضہ مقامی بینکوں سے حاصل کر رہی ہو۔
چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کاکہناتھا کہ بینک صارفین کیلئے مورگیج اور قرض کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے،پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت بنانا ضروری ہے، شرح سود کو 6 فیصد سے کم کرنے کا وقت ہے۔