ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پبلک پارکس اور گرین بیلٹس کے تحفظ سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر عائد حکمِ امتناعی واپس لے لیا ہے، جبکہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں پر عائد پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے کیس کی گزشتہ سماعت کا تفصیلی تحریری حکم جاری کیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ منصوبے اب نئے منظور شدہ ریگولیشنز 2026 کے مطابق آگے بڑھائے جاسکتے ہیں، تاہم تمام قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی لازمی ہوگی۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ پی ایچ اے کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے آغاز سے قبل تمام ضروری قانونی اور ماحولیاتی تقاضے پورے کرے۔ عدالت نے درختوں کی کٹائی کے عمل کو سخت ضابطوں کے تحت لانے اور ری پلانٹیشن کو ریگولیشنز کے مطابق یقینی بنانے کا حکم بھی دیا۔
مزید برآں عدالت نے کمیشن کے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ تمام ترقیاتی منصوبوں کے ہر مرحلے پر مؤثر نگرانی یقینی بنائیں تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں پر کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو۔ تحریری حکم میں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل حسن اعجاز چیمہ سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور سول سوسائٹی کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک پارکس اور گرین بیلٹس کے تحفظ کے لیے ریگولیشنز 2026 تیار کیے گئے ہیں۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ان ریگولیشنز کا گزٹنوٹیفکیشن 17 مارچ 2026 کو جاری کیا جا چکا ہے، جس کے بعد اب ان پر عملدرآمد میں کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔عدالت نے قرار دیا کہ ترقیاتی منصوبے اب نئے فریم ورک کے تحت آگے بڑھائے جائیں گے، تاہم ماحولیاتی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کیس کی مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔