ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب حکومت کا پنجاب لیگل ایڈ ایکٹ 2018 میں اہم ترامیم لانے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا پنجاب لیگل ایڈ ایکٹ 2018 میں اہم ترامیم لانے کا فیصلہ
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راؤ دلشاد:حکومت پنجاب نے پنجاب لیگل ایڈ ایکٹ 2018 میں اہم ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد مستحق شہریوں کو مفت قانونی معاونت کے نظام کو مزید مؤثر اور وسیع بنانا ہے۔

مجوزہ ترامیم کے تحت خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو قانونی امداد کے دائرہ کار میں باقاعدہ شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکرٹری پراسیکیوشن کی جانب سے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز بھی ارسال کی گئی ہیں۔

ترامیم میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کا کردار مزید مضبوط بنایا جائے اور ضلعی لیگل ایڈ کمیٹیوں کی کارکردگی کو بہتر کیا جائے۔

حکومتی پلان کے مطابق لیگل ایڈ سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے گا، جس کے تحت شہری آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔ نئے نظام میں کیس ٹریکنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ مقدمات کی نگرانی آسان ہو سکے۔

مزید یہ کہ وکلاء کی تقرری اور فیس کے نظام میں شفافیت کے لیے نئے قواعد مرتب کیے جائیں گے، جبکہ زیر التوا مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک قانونی معاونت کا پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد عام شہریوں کی انصاف تک رسائی کو مزید آسان، تیز اور مؤثر بنانا ہے۔