ویب ڈیسک: بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے کوردھا کے ایک گاؤں میں ایک جوان دھوم دھام سے بارات لے کر دلہن کے گھر پہنچا، اہل خانہ نے بارات کا شاندار استقبال کیا، دلہن نے دلہا کو دیکھا اور پھر شادی توڑدی۔
دلہا نے جہیز میں دلہن کے گھر والوں سے گاڑی اور اے سی کے مطالبہ کیا، لیکن دلہن والے مطالبے کے سامنے نہیں جھکے، دولہا کے رویہ سے دلہن بھی سیخ پا ہوگئی اور شادی سے انکار کردیا۔
دلہن والوں نے دولہا کے خلاف جہیز کے لیے ذہنی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تھانے میں رپورٹ درج کرادی، جس کے مطابق دولہا سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کا سپاہی ہے۔
رپورٹ میں دلہن کے والد نے بتایا کہ دولہا نشے میں تھا، اس نے ہمارے ساتھ برا سلوک کیا، مجھے گالی دی، جہیز میں گاڑی اور اے سی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا جس پر دلہن نے خود ہی اپنے والد کو دولہا کی ضد کے سامنے نہ جھکنے کا کہہ کر شادی سے انکار کر دیا۔
دلہن کے والد نے کہا بارات 11 اپریل کو آئی تھی، ایسا لگتا ہے کہ تمام باراتی لڑائی کے موڈ میں تھے، دولہا کی باتیں سن کر میری بیٹی حیران و پریشان ہو گئی، وہ میرے پاس آئی اور کہا کہ وہ ایسے لالچی لوگوں سے شادی نہیں کرے گی۔پولیس نے دولہا پر مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔