ویب ڈیسک: اگر آپ خود کو دن کے دوران بار بار جماہی لیتے، نیند سے لڑتے یا تیسری یا چوتھی کافی کے بغیر دن گزارنے سے قاصر پاتے ہیں، تو یہ علامات معمولی نہیں بلکہ کسی سنگین نیند کی کمی کا اشارہ ہو سکتی ہیں۔
امریکی اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن (AASM) کے مطابق، نیند کی کمی نہ صرف روزمرہ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ طویل المدتی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
AASM کے صدر اور میو کلینک منی سوٹا کے ماہر امراض تنفس ڈاکٹر ایرک اولسن کا کہنا ہے، " نیند کی کمی ایک سنگین طبی مسئلہ ہے جس کے سماجی اور انفرادی دونوں سطحوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، چاہے وہ ڈرائیونگ کے دوران حادثات ہوں یا کام کی جگہ پر غلطیاں۔"
نیند کی کمی کے نقصانات
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند نہ لینے سے ذیابیطس، ڈپریشن، دل اور گردے کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور فالج جیسے امراض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر کرسٹن کنوٹسن، نیورولوجی کی ماہر اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی محقق، کے مطابق، "اگر کوئی شخص بورنگ میٹنگ میں بھی سو جاتا ہے تو یہ نیند کی کمی کا واضح اشارہ ہے۔ ایک تازہ دم انسان کسی بھی حالت میں آنکھ نہیں بند کرے گا۔"
نیند کی کمی کا خطرناک پہلو
ماہرین کے مطابق، جب نیند مستقل کم ہو، تو انسان خود کو نارمل سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ اصل میں اس کی دماغی کارکردگی شدید متاثر ہو چکی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر اندیرا گروبھگاوتولا، پین میڈیسن فلاڈیلفیا کی نیند کی ماہر، کہتی ہیں، "ایسے لوگ بار بار ’مائیکرو سلیپ‘ کا شکار ہوتے ہیں — یعنی دو سے دس سیکنڈ کے لیے دماغ سو جاتا ہے — اور خود کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا، جو ڈرائیونگ جیسے کاموں کے دوران جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔"
نیند کی پیمائش کیسے کریں؟
نیند کی شدت جانچنے کے لیے ایپ ورتھ نیند پیمائش جیسے ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس میں صارف سے مختلف روزمرہ حالات میں سونے کے امکان کا اندازہ لگانے کو کہا جاتا ہے۔ اگر اس کا اسکور 10 سے زائد ہو تو یہ طبی توجہ کا متقاضی ہوتا ہے۔
دیگر اسباب اور احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق نیند کی خرابی جیسے نیند میں سانس رکنا، بے خوابی، بے چین ٹانگوں کا مسئلہ اور سونے کے اوقات میں خلل، نیند میں کمی کی وجوہات میں شامل ہو سکتے ہیں۔
زندگی کے انداز اور عادات بھی اس میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ کیفین، الکوحل، چرس کا استعمال، نامناسب سونے کا ماحول (زیادہ روشنی، شور یا درجہ حرارت)، یہ سب نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر گروبھگاوتولا کا کہنا ہے، "اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ الکوحل یا چرس نیند کو بہتر بناتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ نیند کو مزید خراب کرتے ہیں۔ بہتر نیند کے لیے ان اشیاء سے پرہیز اور صحت مند طرز زندگی ضروری ہے۔"