ویب ڈیسک : بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے صارفین کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، بی آئی ایس پی صارفین کو رقم نکلوانے پر 100 سے 200 روپے بینک چارجز ادا کرنا ہوں گے۔
لام علی تالپور کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے صارفین کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی کے صارفین کے لیے ایک کروڑ بینک اکاؤنٹس کھولنے کا ہدف مکمل کرلیا گیا ہے، یہ اکاؤنٹس فی الحال غیر فعال ہیں، تاہم جیسے ہی صارفین اپنی ادائیگیاں لینے آئیں گے، یہ اکاؤنٹس فعال ہوتے جائیں گے۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ بی آئی ایس پی صارفین اب کسی بھی بینک سے رقم نکال سکیں گے اور ان کے اکاؤنٹس عام بینک اکاؤنٹس کی طرح ہی تمام سہولیات فراہم کریں گے۔ ان اکاؤنٹس میں صارفین اپنی رقم جمع کرانے اور کسی بھی مقام سے ترسیلات وصول کرنے کے بھی اہل ہوں گے۔ اس حوالے سے حکام نے بتایا کہ بی آئی ایس پی صارفین کو رقم نکلوانے پر 100 سے 200 روپے بینک چارجز ادا کرنا ہوں گے، تاہم اس عمل میں کسی ایجنٹ کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
اجلاس میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ خواتین صارفین کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹس اب بھی ایک بڑا چیلنج رہیں گی، اس وقت بی آئی ایس پی کے ساتھ 6 بینک کام کر رہے ہیں اور تمام بینکوں کو ون لنک پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
سیکریٹری بی آئی ایس پی نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم نے 4 ماہ میں ایک کروڑ اکاؤنٹس کھولنے کا ٹاسک دیا تھا جو مکمل کرلیا گیا ہے، جبکہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کا مرحلہ آئندہ 6 ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا۔