محکمہ پولیس کی ناقص کارکردگی،مدعی پریشان

محکمہ پولیس کی ناقص کارکردگی،مدعی پریشان

(ملک اشرف)محکمہ پولیس اور پراسیکوشن کی انتہائی ناقص کارکردگی برقراررہی۔ملک بھر کی عدالتوں میں صرف ایک مجرم کو سزائے موت اور تین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق:عدالتوں سے قتل اور منشیات کے ملزمان کی سزائوں میں کمی،اور بریت میں،اضافہ پرمدعی مقدمات انتہائی پریشان ہیں۔لاہور سمیت ملک بھر کی ماڈل کورٹس سے آج انیس نومبر کو صرف ایک مجرم کو سزائے موت اورتین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔جبکہ دوسو ستاسٹھ مقدمات کا فیصلہ سنایا گیا۔لاہورسمیت ملک بھر کی ماڈل کورٹس نے آج انیس نومبر کو 267مقدمات کا فیصلہ کیا۔مزید یہ کہ ماڈل کریمینل ٹرائل کورٹس نے قتل کے15اور منشیات کے66 مقدمات کا فیصلہ سنا دیا۔تمام عدالتوں نے کل 443گواہان کے بیانات قلمبند کیے۔پنجاب میں قتل کے06 منشیات کے24 مقدمات کے فیصلے ہوئے۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ملز م کو سزائے موت جبکہ 22مجرمان کو 27سال10ماہ 08دن قید اور825002روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔مزیدیہ کہ ماڈل سول ایپلٹ کورٹس مجموعی طور پر95دیوانی، فیملی اور رینٹ اپیلوں و درخواست نگرانی کے فیصلے کئے گئے، ماڈل مجسٹریٹس عدالتوں نے91مقدمات کے فیصلے کیے۔جبکہ تمام عدالتوں نے کل 242گواہان کے بیانات قلمبند کیے ،جبکہ اٹھائیس مجرمان کوگیارہ سال قید اور 123802روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ۔پریشان حال مدعی مقدمات نے محکمہ پولیس اور پراسیکو شن کی ناقص کارکردگی بارے بات کی اورحکومت سے پولیس اور پراسیکوشن نظام میں بہتری لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

محکمہ پولیس , ناقص کارکردگی,مدعی پریشان,سزائے موت,کریمینل,قلمبند, دوسو ستاسٹھ