قیدیوں میں عیدی کی تقسیم کیلئے خصوصی کائونٹر بنانے کا حکم

قیدیوں میں عیدی کی تقسیم کیلئے خصوصی کائونٹر بنانے کا حکم

علی ساہی : عید پر قیدیوں کی اپنے پیاروں سے ملاقات تو شاید نہ ہوسکے لیکن کھانے پینے کی اشیاء۔۔کپڑےو دیگر سامان اور پیسے جمع کروانے کے لیے جیلوں میں خصوصی کائونٹر بنانے کے احاکامات جاری کردیے گئے ۔

قیدیوں کیلئےاچھی خبرہے کہ آئی جی جیل خانہ جات مرزاشاہد سلیم بیگ نےعیدپرقیدیوں کوگھرکاکھانا،سامان اورپیسےپہنچانے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔مرزاشاہدسلیم بیگ نے صوبہ بھر کی جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس کوجیلوں میں خصوصی کاؤنٹرزقائم کرنےکاحکم دیا ہے اوران پرڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رینک کاافسرخصوصی طور پرتعینات کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ سامان جمع کروانے کے لیے انے والوں کو پرہشانی کا سامب نہ کرنا پڑے۔

کوروناوائرس کےحوالےسےاحتیاطی تدابیربھی اپنانےکی ہدایات کی ہے۔قیدیوں کے عزیزواقارب کی جانب سے نارواسلوک کی شکایات ہیں،آئندہ کوئی شکایت ملی تومتعلقہ جیل افسرکیخلاف کارروائی ہوگی،عیدپرقیدیوں کیساتھ ملاقات کافیصلہ حکومت نےکرناہےحکومتی منظوری کےبعدعیدپرقیدیوں سےملاقات کیلئےاقدامات کرینگے اجازت نہ ملی تو صرف سامان وصول کیا جائے گاتاکہ قیدیوں کو  کورونا  وائرس سے محفوظ رکھا جاسکے۔

یاد رہے ایک رپورٹ  کے مطابق  پاکستان بھر کی 114 جیلوں میں 77 ہزار سے زائد قیدی  موجود ہیں ،ان جیلوں کی قیدیوں کی گنجائش 50 ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔سب سے زیادہ قیدی صوبہ پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں جن کی مجموعی تعداد 45 ہزار سے زیادہ ہے۔ قیدیوں کو مناسب انداز میں رکھنے کے لیے ان جیلوں میں گنجائش اس سے کہیں کم ہے جو سرکاری طور پر بتائی جاتی ہے۔

ان قیدیوں میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کے خلاف مقدمات ابھی شروع بھی ہو پائے تھے۔ تشدد کے روک تھام کے بین الاقوامی ادارے کی سنہ 2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قید میں رکھے جانے والے افراد میں 70 فیصد ایسے تھے جن کے خلاف مقدمات شروع نہیں کیے گئے تھے۔ان قیدیوں میں کورونا وائرس کے مریض بھی پائے گئے  جن کو قرنطینہ کیا گیا ہے۔