ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سعودیہ کے بعد روزہ، سعودیہ کے ساتھ عید؛ ایک روزہ کہاں گیا؟؟

Eid Alfitar in Pakistan, Muslim Eid, Muslim Festivals, Eid in Saudi Arabia, Ramadan's 30 days, Eid day, Eid festival, city42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وسیم عظمت: اس رمضان شریف میں  پاکستانیوں نے سعودی عرب اور دوسرے بہت سے ملکوں کے مسلمانوں کے ساتھ پہلا روزہ نہیں رکھا تھا بلکہ ایک دن بعد پاکستان میں رمضان کا سرکاری آغاز کیا گیا، یہ تو پہلے بھی ہوتا ہے لیکن اس  بار انہونی یہ ہو رہی ہے کہ رمضان کا اختتام سعودی عرب کے ایک دن بعد کرنے کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ ہی کیا جا رہا ہے، اس طرح پاکستانی مسلمانوں کو سعودیہ کے مسلمانوں سے ایک روزہ کم رکھنے کا موقع ملے گا۔

،  دنیا بھر میں 28 فروری کو رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد پہلی تراویح ہو گئی اور یکم مارچ کو پہلا روزہ رکھا گیا، پاکستان میں روہئیت ہلال کمیٹی کے  ارکان کئی شہروں مین چاند دیکھنے کے لئے بیتھے لیکن انہیں نہ چاند دکھائی دیا، نہ قابل قبول شہادت موصول ہوئی، انہوں نے دو مارچ کو رمضان کے پہلے روزے کا اعلان کر دیا۔  اب خدشہ ہے کہ کہیں سرکاری عید کے روز کوئی عالم اپنے پیروکاروں کو رمضان کا تیسواں روزہ نہ رکھوا دیں۔

یہاں تک معاملہ ہمیشہ کے معمول کے مطابق تھا کہ سعودی عرب میں روزہ ہونے کے ایک دن بعد پاکستان مین رمضان کا  آغاز ہوا، لیکن اب انہونی یہ ہو رہی ہے کہ سعودی عرب میں  30 روزوں کے بعد  31 مارچ کو عید ہو گی لیکن پاکستان میں 29 ہی روزے رکھنے کے بعد  31 مارچ کو سعودی عرب کے ساتھ عید کر دی جائے گی اور اس عید کا اعلان چاند دیکھنے کی زحمت کئے بغیر ہی کر دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کے بعد پنجاب کی حکومت نے بھی رمضان شریف کے مہینے کو  صرف 29 دن کا فرض کرتے ہوئے، 29 روزوں کے بعد  31 مارچ کو عید  الفطر ہونے کا اعلان کر دیا اور 31 مارچ کو عید کی چھٹی کرنے کا اعلان کر دیا، عید کے بعد "ٹرو اور مرو"  کی چھٹیا  یکم اپریل اور دو اپریل کو ہوں گی۔ پنجاب اور وفاق کی حکومتوں نے چاند کا انتظار کئے بغیر عید الفطر کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ اس رضان کے آغاز میں  28 فروری کو روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا لیکن چاند کی روئیت کا اعلان نہیں ہوا تھا حالانکہ تب چاند سعودی عرب میں دیکھا جا چکا تھا اور اس کی اطلاع  چند ہی لمحوں میں دنیا بھر میں پھیل گئی تھی۔ 

وفاق اور پنجاب کی حکومتوں نے عید کی صرف تین چھٹیوں کے جو نوٹیفیکیشن کئے ہیں ان کے مطابق عید بہرصورت 31 مارچ کو ہی ہونا لازم ہے، یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ 29 روزے رکھنے کے بعد  30 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعد پاکستان میں شوال کا چاند دکھائی نہ دیا تو عید کا اعلان کس  جواز کے ساتھ کیا جائے گا۔ کیونکہ  روئیت ہلال کمیٹی کا طریقہ یہ ہے کہ 29 دن کے بعد نیا چاند نظر نہ آئے تو اس مہینے کو  30 دن کا مان لیا جاتا ہے۔  اس سال کے رمضان کو سعودی عرب اور دنیا کے بہت سے دوسرے ملکوں میں تو 30 دن کا مانا جا رہا ہے لیکن پاکستان میں کم از کم سرکاری سطح پر یہ طے کر لیا گیا ہے کہ ہمارے ہاں رمضان  29 دن کا ہی رہے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیا تمام مکاتب فکر کے علما کرام بھی اس سرکاری فیصلہ کو خاموشی سے مان لین گے یا چند دیکھ کر  یا پھر 30 روزے رکھ کر ہی عید کریں گےْ

پاکستان میں پہلے ایک آدھ مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ سرکاری فیصلوں سے اختلاف کرنے والوں نے سرکاری عید کے روز روزہ رکھا۔