15سےزائدافسران اختلاف رائے کی بھینٹ چڑھ گئے

15سےزائدافسران اختلاف رائے کی بھینٹ چڑھ گئے

سٹی 42: محکمہ پرائمری ہیلتھ شدید انتظامی بحران کا شکار، سیکرٹری پرائمری ہیلتھ سےاختلاف رائےپر3 ماہ کےدوران15 سےزائد افسران تبدیل ،متعدد نےخود تبادلے کروالئے ۔ کورونا ویکسین سنٹرز تک بند، ویکسین کی عدم د ستیابی بھی بدنظمی کا شاخسانہ ہے۔

 تفصیلات کےمطابق سیکرٹری پرائمری ہیلتھ سارہ اسلم کےتین ماہ کےعرصہ کےدوران  اختلاف رائےپر15 سے زائد افسران کو  تبدیل کر دیا گیا یا خود چھوڑ کر چلے گئے ۔سپیشل سیکرٹری بابرامان بابر ، ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن سارہ رشید چیمہ ، ڈپٹی سیکرٹری ورٹیکل پروگرامز رافعہ حیدر ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل عبداللہ خرم نیازی ، ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ توقیر وٹو ، ڈپٹی سیکرٹری کوآرڈی نیشن حافظ قیصر عباس اختلافات پر تبادلے کروا کر چلے گئے ۔

سیکشن افسر جنرل فاروق اعظم ،سیکشن افسر پنشن مبشر،ایس اوفارمیسی سجادحیدر، ایس اونرسنگ جمیل غوث نے4ماہ کی  رخصت لےلی ۔ ڈپٹی سیکرٹری ورٹیکل پروگرام عمرمیلہ بھی محکمہ چھوڑنےکیلئےکوشاں ہیں ۔ ڈائریکٹرای پی آئی ڈاکٹربشیر کوسیکرٹری پرائمری ہیلتھ نےاختلاف رائےپرخود تبدیل کردیا۔ڈاکٹر بشیر کی  جگہ ڈاکٹر رانا سہیل کو چارج دیا گیا مگر ان سےبھی نہ بنی اورعہدے سے ہٹا دیا ۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر صدیق کو بھی تبدیل کردیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق سیکرٹری پرائمری ہیلتھ سارہ اسلم کی انتظامی ٹیم بنانے میں ناکامی سے محکمے کی کارکردگی متاثرہوئی، کورونا ویکسین کی قلت اورپنجاب بھر میں ویکسین سنٹرز کی بندش بھی اسی شدید بد نظمی کا شاخسانہ ہے۔