مشہور کمپنیوں کےسی ای او کی ہلاکت،قتل کا شبہ

مشہور کمپنیوں کےسی ای او کی ہلاکت،قتل کا شبہ

(سٹی42)دنیا بھر میں مختلف قسم کے خطرناک کھیل کھیلے جاتے ہیں جن میں جان سے ہاتھ دھونے کا خطرہ ہوتا ایسا کچھ مشہور کمپنیوں کے 33 سالہ سی ای او کے ساتھ ہوا  مگر ان کی موت نے کئی سوال کھڑے کردئیے جس پر انہیں  قتل کرنے کا بھی انکشاف کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کھیلوں میں کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن کو دیکھ کر یاسن کر تعجب ہوتا،اپنی صلاحتیوں کو اجاگر کرنے کے لئے اور دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی آج کل جدوجہد کی جارہی تاکہ لوگوں میں اپنی پہچان بنائی جائے اور مستقبل میں کاروباری معاملات میں درپیش مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جاسکے، ایسی ہی سوچ پٹھاؤ اور گوکاڈا ٹیکسی موٹر سائیکل شیئرنگ کمپنیوں کے سی ای او 33 سالہ فہیم صالح کی تھی مگر قسمت کو کچھ اور ہی معلوم تھا جو کہ اپنے ہی اسسٹنٹ کے ہاتھوں موت کے منہ چلے گئے۔

فہیم صالح نائیجریا اور بنگلہ دیش میں مقبول سواری شیئر کرنے والی کمپنیوں کے قیام میں اپنے کردار کے لیے شہرت رکھتے تھے۔ 33 سالہ فہیم صالح کی لاش اس کے مین ہٹن اپارٹمنٹ میں ٹکڑے ٹکڑے حالت میں ملی تھی۔ پولیس نے کےکی موت پر قتل کے شبہ میں ان کےایگزیکٹو اسسٹنٹ کو قتل کے جرم میں گرفتار کیا،معاملے کی تحقیقات سے یہ سامنے آئی کہ فہیم صالح سے ملزم نے ہزار ڈالر لئے جو واپس نہیں کئے۔

 پٹھاؤ اور گوکاڈا ٹیکسی کمپنیوں کے سی ای او 33 سالہ فہیم صالح ایک بنگلہ دیشی تارکین وطن کے بیٹے تھے اور وہ ابھی جب ہائی سکول میں ہی پڑھتے تھے جب انھوں نے اپنی پہلی کمپنی بنائی۔سنہ 2015 میں بنگلہ دیش اور نیپال میں مقبول سواری شیئرنگ کمپنی پٹھاؤ کو مشترکہ طور پر قائم کیا۔33 سالہ فہیم صالح نے حال ہی میں نائیجریا میں موٹرسائیکل ٹیکسی ایپ گوکاڈا کے قیام میں تعاون کیا تھا۔