پی ٹی آئی :ایک سرکاری ملازم دشمن حکومت

پی ٹی آئی :ایک سرکاری ملازم دشمن حکومت

قیصر کھوکھر: جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے سرکاری ملازمین مشکل میں ہیں ۔ نہ تنخواہوں میں کوئی اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی قابل ذکر نئی بھرتی کی جا رہی ہے اور الٹا اب جب سرکاری افسر یا ملازم کی سروس بیس سال ہوگی اسے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لئے ایک کمیٹی فیصلہ کرے گی اور یہ کہ یہ کمیٹی وفاقی حکومت بنائے گی جو ہر سرکاری افسر کی کارکردگی کو پرکھے گی ۔

جانچے گی اور فیصلہ کرے گی کہ کس افسر اور کس ملازم کو نوکری میں رکھنا ہے اور کسے نہیں رکھنا ہے ۔ اس پالیسی پر آج کل بڑی لے دے ہو رہی ہے اور ہر کوئی اپنے طور پر اس پر تبصرے کر رہا ہے لیکن یہ ایک زیادتی کا عمل ہے کہ حکومت کسی بھی ملازم کو ایک کمیٹی کی سفارش پر رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرے گی۔ پاکستان کی افسر شاہی کی تاریخ گواہ ہے کہ کرپٹ افسران کی اے سی آرز ہمیشہ اے ون ہوتی ہیں اور بے چارے ایماندار افسران جو اپنے افسران کے پیچھے نہیں بھاگتے ۔

وہ بے چارے اچھی اے سی آر حاصل کرنے سے رہ جاتے ہیں۔ اس طرح جو کمیٹی حکومت بنائے گی اس کمیٹی کو یہ کرپٹ افسران اپروچ بھی کر لیں گے اور اس طرح ایک کرپٹ افسر اس سے بچ جائے گا اور بے چارہ ایماندار اور خاموش طبع افسران اور ملازمین اس کی زد میں آ جائیں گے۔ بیوروکریسی کے تمام گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ایک اچھا قدم ہے کہ یہ بیس سال بعد کیوںکر شروع ہو رہی ہے اسے سروس کے آغاز میں ہی اپنانا چاہیے تھا تاکہ پہلے دن سے ہی افسران اور ملازمین کی موزونیت کو جانچا جا سکے تاکہ بعد میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو سکے یا پھر اس پالیسی میں کچھ تبدیلی کی جائے کہ فوج کی طرز پر ہر عہدہ سے اگلے عہدہ میں ترقی کے لئے ایک بورڈ بیٹھا کرے جو یہ فیصلہ کرے کہ یہ افسر یا ملازم اگلے گریڈ میں ترقی کا اہل بھی ہے یا کہ نہیں ہے۔

تاکہ گریڈ ایک سے گریڈ 22تک کے افسران کا بورڈ کے ذریعے احتساب کیا جا سکے لیکن سول بیورو کریسی میں یہ طریقہ کار اپنایا نہیں گیا ہے اور بیوروکریسی کے تمام گروپ اور تمام ملازمین کی ایسوسی ایشن نے بیس سال کی سروس کے بعد افسران کی چھانٹی کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ یہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔ اگر میرٹ پر ہو تو اور بات ہے ورنہ کمیٹی کے ذریعے میرٹ پر پورا نہیں اترا جا سکتا ہے جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے سرکاری ملازمین مشکل میں ہیں، بجٹ آیا جو کئی گنا زیادہ مہنگائی لایا ہے لیکن اس بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے جس سے پورے پاکستان کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں لیکن انہیں کوئی بھی نہیں سن رہا ہے۔

سرکاری تنخواہ میں ایک سرکاری ملازم کا گزارہ انتہائی مشکل ہو گیا ہے حتیٰ کہ پینشنرز بھی پریشان ہیں اور اب حکومت پینشن بند کرنے پر غور کر رہی ہے حالانکہ لوگ سرکاری نوکری صرف اسی لئے کرتے ہیں کہ کل کلاں ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں پینشن ملے گی ۔ اور اب پینشن بند ہونے سے یہ بوڑھے لوگ کہاں جائیں گے اور ان کی کون سنے گا۔ پہلے ہی یہ بے چارے مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں اور اب حکومت کو اپنے ذرائع سے دیگر طریقوں سے فنڈ ریزنگ کرنا چاہئے لیکن یہ کرنے کی بجائے حکومت کا سرے سے پینشن بند کرنا ایک صریحاََ زیادتی کا عمل ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے بجٹ میں نئی اسامیوں کی تخلیق اور ہر قسم کی نئی بھرتی بند کر دی ہے صرف پنجاب پبلک سروس کمیشن سے اکا دکا بھرتی ہو رہی ہے اور باقی بے روز گاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آج کے نوجوان کو نوکری نہیں مل رہی ہے اور نوکریاں نہ ملنے سے ہر قسم کے کرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور والدین کے لئے پریشانیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک نیا شوشہ یہ چھوڑا ہے کہ سرکاری ملازمین اور افسران کو 55سال کی عمر میں ریٹائر کر دیا جائے گا یہ ایک نئی پریشانی شروع ہو گئی ہے جس سے ہر کوئی پریشان ہے اور بیوروکریسی نے اس کی سخت مخالفت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ بیان واپس لیا جائے تاکہ ملازمین اور افسران سکھ کے ساتھ کام کر سکیں ۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ایک خط لکھا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر 62سال کر دی جائے کیونکہ جب کسی بھی سیشن جج کو تجربہ حاصل ہوتا ہے تو وہ ریٹائر ہو جاتا ہے لہٰذا یہ استدعا کی گئی ہے تاکہ لاہور ہائی کورٹ کو تجربہ کار جج مل سکیں۔ ایک جانب وفاقی حکومت ریٹائرمنٹ کی عمر 55سال کرنے پر غور کر رہی ہے تو دوسری جانب چاروں صوبے ریٹائرمنٹ کی عمر 62سال کرنے پر کام کر رہے ہیں یہ سب کیا ہے؟

حکومت مکمل طور پر کنفیوژن کا شکار ہے جو بھی آئی ایم ایف کی پالیسی آتی ہے حکومت اس پر بغیر سوچے سمجھے کام شروع کر دیتی ہے کیونکہ حکومت پی ٹی آئی کے پاس تجربہ کی کمی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر سرکاری ملازمین کو ریلیف دینا چاہیے اور اداروں کی مضبوطی کے لئے کام کرنا چاہئے کیونکہ اگر ادارے مضبوط ہونگے تو ملک مضبوط ہوگا۔