ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ میں عثمان ڈار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنےکے خلاف درخواست پر سماعت ، سیکرٹری داخلہ کی طرف سے جواب داخل کرا دیا گیا ،عدالت نے آئندہ سماعت پر ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت کیس کی مصدقہ نقول طلب کرلی۔
جسٹس محمد ساجد محمود نے عثمان ڈار کی درخواست پر سماعت کی ، سرکاری وکیل نے سیکرٹری داخلہ کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔عدالت نے آئندہ سماعت پر انسداد دہشت گردی کورٹ راولپنڈی میں زیر سماعت ٹرائل کی مصدقہ نقول طلب کر لیں، تاکہ عدالت درخواست کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے سکے۔
رپورٹ کے مطابق، عثمان ڈار کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کے مقدمے کے تحت راولپنڈی پولیس کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
عثمان ڈار کے وکیل کے مطابق 2024 میں عدالت کے حکم پر ان کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا تھا، لیکن وفاقی حکومت نے دوبارہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے نام شامل کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی اور اس سے قبل درخواست گزار کا موقف نہیں سنا گیا، جو کسی شہری کی نقل و حرکت پر پابندی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عثمان ڈار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم جاری کیا جائے۔