سٹی42: پڑوسی ملک کی شدید مخالفت اکارت گئی، پاکستان کی سرزمین پر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا آغاز آج ہو رہا ہے، ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کے اس میگا ٹورنامنٹ میں صرف آٹھ سیلیکٹڈ ٹیمیں شریک ہوتی ہیں جن میں چیمپئن بننے کے لئے ناک آؤٹ مقابلہ ہوتاہے۔ چیمپئینز ٹرافی کا پہلا میچ دفاعی چیمپئین پاکستان اور ماضی کے چیمپئین نیوزی لینڈ کی ٹیمیں کھیلیں گی۔ نیشنل سٹیڈیم کراچی کو اس خاص الخاص میچ کے لئے خاص طور سے سجایا سنوارا گیا ہے۔ آج پاکستان کے صدرِ مملکت آصف علی زرداری اس میچ کا اور چیمپئینز ٹرافی کا رسمی افتتاح کریں گے۔ تقریب کا شہ بالا وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین محسن نقوی ہوں گے۔
چیمپئینز ٹرافی گھر لے جانے کے لئے بہترین ٹیموں کے درمیان کراچی، لاہور، راولپنڈی کے میدانوں میں گھمسان کا رن پڑےگا۔
آئی سی سی کے آفیشل براڈ کاسٹر ان تمام میچوں کو لائیو نشر کرنے کے انتظامات مکمل کر چکے ہیں جبکہ جن نیوز آؤٹ لیٹس کو براہ راست نشریات کے رائٹس حاصل نہین وہ بھی کرکٹ ورلڈ کے ان موسٹ ویوڈ میچوں کی پل پل کی خبریں اپنے ریڈرز اور ناظرین تک پہنچانے کے لئے خصوصی سعی کریں گے۔
چیمپئینز ٹرافی کے پہلے میچ سے فائنل میچ تک پاکستان دنیا بھر کے کرکٹ لوورز کی نگاہوں کا مرکز رہے گا۔
پچاس اوورز فارمیٹ میں ورلڈ کپ بھی ہوتا ہے لیکن کرکٹ کو جاننے اور کھیلنے والے فینز کے لئے اہم ترین ٹورنامنٹ بہرحال چیمپئینز ٹرافی ہے جس مین صرف چنیدہ ٹیمیں شامل ہوتی ہیں اور کسی بھی ٹیم کو "کمزور حریف" کے ساتھ میچ کی شکل میں "بائی" نہیں ملتی، ٹرافی تک وہی پہنچتے ہین جو درحقیقت بہترین ہیں اور ٹرافی کے حقیقی حقدار ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ 14 برس کے دوران کرکٹ کھیلنا آغاز کرنے والے بچوں اور نوجوانوں کے لئے دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیموں کے سپر ہیروز کو اپنے شہروں میں کھیلتے دیکھنے کا موقع ملنا کسی خواب سے کم نہیں۔ ان میچوں میں اپنے فیوریٹ بہٹرز اور باؤلرز کو بالکل قریب سے کھیلتے دیکھ کر وہ خوب سیکھیں گے۔
کرکٹ کے شائقین کو توقع ہے کہ آج پہلے ہی میچ میں سنسنی خیز بیٹنگ، جاندار بولنگ اور شاندار فیلڈنگ دیکھنے کو ملے گی۔
"پاکستان نہین آؤں گی" کی ضد کر کے دبئی میں آئیسولیشن مین ڈیرے لگا لینے والی انڈین ٹیم کا ڈی ڈے 23 فروری کو ہو گا جب گرین شرٹس نخوت اور تعصب کا حساب برابر کرنے اور اچھا سبق سکھانے کے لئے دبئی سٹیڈیم میں دربار لگائیں گے۔
کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے حریف پاکستان اور بھارت کا میچ ہمیشہ کی کرکٹ فینز کا پسندیدہ میچ ہوتا ہے لیکن اس بار میچ میں کچھ زیادہ تناؤ ہو گا کیونکہ بھارت کے کرکٹ بورڈ نے کسی جواز کے بغیر پاکستان مین ہونے والی چیمپئینز ٹرافی میں ٹیم نہ بھیج کر پاکستان اور پاکستانیوں کی بے عزتی کی اور پاکستانی کرکٹ بورڈ کے ساتھ آئی سی سی اور دنیا کی دوسری چھ ٹیموں کو دبئی آنے جانے کی اضافی مشقت میں ڈالا۔
پاکستان بھارتی کرکٹ بورڈ کی ہٹ دھرمی کا حساب مستقبل مین بھارت مین ہونے والے کرکٹ ایونٹس میں ٹیمیں نہ بھیج کر تو کرے گا ہی لیکن پاکستانی کرکٹرز اپنا حساب 23 فروری کو ہی بے باک کرنے کے لئے اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
چیمپئینز ٹرافی کےدوران کرکٹ کے ماہر کومنٹیٹر آئی سی سی کے پینل میں شامل ہیں جو اعلیٰ ترین درجہ کی پروفیشنل کومنٹری سے فینز کی رہنمائی کرین گے۔ تاہم نجی نیوز آؤٹ لیٹس نے بہت سے بڑبولے سابق کرکٹرز کو بھی اپنے اپنے شوز میں بلوا کر ان سے تبصرے کروانے کے انتظامات کر رکھے ہیں۔ نجی چینلز کے تبصرے بازوںاور آئی سی سی کے آفیشل کومنٹیٹرز میں کوالٹی اور اخلاقی ذمہ داری کا نمایاں فرق ہو گا۔
چیمپئینز ٹرافی کے میچ کھیلنے کے لئے میدان میناترنے والی ٹیموں میں میزبان پاکستان، ، آسٹریلیا، انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ، بنگلہ دیش، افغانستان،بھارت اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔
ہر میچ میں گراؤنڈ مین کھیلنےوالے محض بائیس ہوں گے لیکن زور کروڑوں فینز کا لگ رہا ہو گا کیونکہ چیمپئینز ٹرافی کا ہر میچ ہی ڈو آر ڈائی ہوتا ہے۔ جو ٹیم ڈاؤن ہو جائے اس کا ابھرنا ناممکن ہوتا ہے اور ہر ٹیم کے فین اپنی ٹیم کو فائنل تک کھیلتے دیکھنے کے متمنی ہیں۔