ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سینیٹ امیدواروں سے بیان حلفی لینے کا فیصلہ

سینیٹ امیدواروں سے بیان حلفی لینے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان  نے سینیٹ انتخابات شفاف بنانے کیلئے امیدواروں سے بیان حلفی لینے کا فیصلہ کرلیا، بیان حلفی میں امیدوار ٹکٹ پر پیسے نہ لینے کی یقین دھانی کرائے گا، اگر پارٹی ٹکٹ سے متعلق رقم دی ہے تو الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے گا۔

ذرائع کے مطابق سینیٹ انتخابات کے امیدوار بیان حلفی میں ووٹ کی خرید و فروخت کیلئے کسی بھی طرح پیسے کا استعمال نہ کرنے کی تحریری یقین دھانی کرائے گا، امیدوار انتخاب میں کرپٹ پریکٹس، آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے کا بیان حلفی جمع کرائے گا، الیکشن کمیشن کو کسی بھی طرح کے اکاؤنٹ کی تحقیقات کی اجازت دے گا، امیدوار الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی یقین دھانی کرائے گا، بیان حلفی پر امیدوار کے دستخط اور انگوٹھے کے نشان اور شناختی کارڈ نمبر درج ہوگا۔

دریں اثنا  سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی، الیکشن کمیشن نے سینیٹ ووٹرز کا ہدایت نامہ پیش کیا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اٹارنی جنرل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی اپنی پارٹی کے نظم ضبط کے پابند ہیں، خلاف ورزی پر کارروائی ہوسکتی ہے۔ہدایت نامہ میں متناسب نمائندگی اور خفیہ ووٹنگ کا ذکر ہے۔ 

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ آرٹیکل 226 کے تحت وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے علاوہ ہر الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔ 

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خفیہ رائے شماری میں متناسب نمائندگی نہ ہوئی تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی،  اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سزا صرف ووٹوں کی خرید و فروخت پر ہوسکتی ہے، نااہلی بھی ہوسکتی ہے تاہم سزا کوئی نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینیٹ انتخابات پر نہیں ہوتا اور آرٹیکل 59 میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکر نہیں، اوپن بیلٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہوگی یا نہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ہے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اپنے ہی معاہدے سے پھر گئے، میثاق جمہوریت میں خفیہ طریقے کار کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا لیکن دونوں پارٹیاں اب اس پرعمل نہیں کر رہیں، آئین بذات خود بھی ایک سیاسی دستاویز ہے، آئینی تشریح کرتے وقت عدالت سیاسی کام ہی کر رہی ہوتی ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ ، بلوچستان اور پنجاب نے دلائل دیئے۔

Sughra Afzal

Content Writer