ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا نے عالمی عدالت کے ججوں پر پابندی لگا دی

امریکا نے عالمی عدالت کے ججوں پر پابندی لگا دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت ( آئی سی سی) کے دو مزید ججوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کی وجہ غزہ میں مبینہ جنگی جرائم سے متعلق اسرائیل کے خلاف عدالتی کارروائیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق جارجیا سے تعلق رکھنے والے جج گوچا لوردکیپانیدزے اور منگولیا کے جج اردینبالسرین دامدن کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فروری میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ دونوں جج اسرائیل کے خلاف آئی سی سی کی مبینہ غیرقانونی اور سیاسی کارروائیوں میں شریک رہے۔

مارکو روبیو نے الزام لگایا کہ ان ججوں نے اسرائیل کی رضامندی کے بغیر اسرائیلی شہریوں کے خلاف تحقیقات، گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں کی حمایت کی۔ ان کے مطابق دونوں ججوں نے 15 دسمبر کو اسرائیل کی اپیل کے خلاف اکثریتی فیصلے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے آئی سی سی کی جانب سے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوششوں کو سیاسی بنیادوں پر اسرائیل کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا۔ یہ پابندیاں آئی سی سی کی اپیلز چیمبر کے اس حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آئیں جس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف جاری گرفتاری وارنٹس کو کالعدم قرار دینے کی اسرائیلی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

آئی سی سی کے ججوں کا مؤقف تھا کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد مبینہ جرائم سے متعلق تحقیقات پہلے ہی 2021 میں اسرائیل کو دیے گئے نوٹس کے دائرہ کار میں آتی ہیں، اور اس کے لیے روم اسٹیٹوٹ کے تحت کسی نئے نوٹس کی ضرورت نہیں تھی۔